مجھے اداکاری آتی ہے ملک چلانا نہیں : منوج باجپائی کا مودی کو مشورہ دینے سے انکار

بالی ووڈ کے معروف اداکار منوج باجپائی نے کہا ہے کہ وہ خود کو ایسی پوزیشن میں نہیں سمجھتے کہ ملک کے وزیراعظم کو کوئی مشورہ دے سکیں، کیونکہ سیاسی اور معاشی معاملات پر فیصلہ سازی ماہرین کا کام ہے۔

اپنی آنے والی فلم گورنر:دی سائلنٹ سیوئیر کی تشہیری مہم کے دوران ایک انٹرویو میں منوج باجپائی سے سوال کیا گیا کہ اگر انہیں وزیراعظم کو ایک مشورہ دینا ہو تو وہ کیا ہوگا؟ اس پر اداکار نے جواب دیا کہ وہ ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور نہ ہی خود کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کو مشورہ دیں۔

منوج باجپائی کا کہنا تھا کہ ہر شخص کی اپنی ذمہ داریاں اور مہارت کا دائرہ کار ہوتا ہے۔ صحافی اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوتے ہیں جبکہ وہ بطور اداکار اپنے کام کو بہتر انداز میں انجام دینا جانتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش معاشی چیلنجز، پالیسی سازی اور بحرانوں سے نمٹنے کے فیصلے متعلقہ شعبوں کے ماہرین ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔

اداکار نے 1991 کے معاشی بحران اور موجودہ عالمی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری یا فنکار ایسے پیچیدہ معاملات میں محدود کردار رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری ماہرین اقتصادیات اور پالیسی سازوں پر عائد ہوتی ہے۔

منوج باجپائی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ غیر یقینی معاشی حالات میں عام لوگ اپنے اخراجات محدود کرتے ہیں اور مالی طور پر محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے افراد مستقبل کے خدشات کے پیش نظر بڑے مالی فیصلوں سے گریز کرتے اور اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں مہارت کا احترام ضروری ہے، اسی لیے وہ سیاسی یا معاشی معاملات پر عوامی سطح پر مشورے دینے سے گریز کرتے ہیں اور اپنی توجہ اداکاری پر مرکوز رکھتے ہیں۔