گمنامی سے اقتدار کی چوٹی تک، مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر کیسے بنے؟

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای ماضی میں عوامی سطح پر نسبتاً کم معروف تھے، تقرری کے بعد سے منظرِ عام سے غائب ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ ایک امریکی-اسرائیلی حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے۔

نئے سپریم لیڈر نے اپنی تقرری کے بعد متعدد تحریری پیغامات جاری کیے ہیں جن میں انہوں نے اپنے والد کی پالیسیوں اور نظریاتی مؤقف کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جمعرات کو جاری ایک بیان میں انہوں نے اسرائیل اور امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “بدخواہ دشمن” ایرانی قوم میں شکوک، مایوسی، خوف، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا چاہتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے برعکس کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم انہیں برسوں سے سپریم لیڈر کے دفتر میں ایک بااثر اور کلیدی شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق وہ سپریم لیڈر کے دفتر کے طاقتور منتظم محمد گلپایگانی کے بعد دوسرے اہم ترین فرد تصور کیے جاتے تھے اور پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بھی ان کے قریبی روابط تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے نومبر 2019 میں مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بغیر کسی عوامی انتخاب یا سرکاری تقرری کے اپنے والد کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اور سپریم لیڈر نے اپنی بعض اختیارات اور ذمہ داریاں انہیں سونپ رکھی تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق وہ قدس فورس اور بسیج ملیشیا کے ساتھ مل کر ایران کی علاقائی اور داخلی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرتے رہے۔

سیاسی حلقوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام پہلی بار 2005 کے صدارتی انتخابات کے دوران نمایاں ہوا، جب سابق اسپیکر مہدی کروبی نے الزام عائد کیا کہ وہ محمود احمدی نژاد کے حق میں انتخابی عمل پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ بعد ازاں 2009 کے متنازع انتخابات کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائیوں میں بھی ان کے کردار کے حوالے سے قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔

وکی لیکس کے ذریعے منظرِ عام پر آنے والے امریکی سفارتی مراسلوں میں بھی مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر کے دفتر کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا گیا تھا۔ دوسری جانب بعض مغربی تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے وسائل کے ذریعے برطانیہ، یورپ اور دبئی میں جائیدادوں اور دیگر سرمایہ کاری سے کروڑوں ڈالر کے اثاثے بنائے۔

مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے قم میں دینی تعلیم حاصل کی اور تدریس بھی کی۔ وہ حجت الاسلام کے درجے تک پہنچے، تاہم سپریم لیڈر مقرر کیے جانے کے بعد انہیں آیت اللہ کے منصب سے متعارف کرایا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد عادل، جو سابق اسپیکر غلام علی حداد عادل کی صاحبزادی تھیں، ان حملوں میں جاں بحق ہوئیں جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوئے تھے۔ نئی قیادت کے تناظر میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کو ایران کی داخلی سیاست اور خطے کی مستقبل کی صورتحال کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔