دودھ ، دہی اور پنیر میں موجود چکنائی دل کے لئے خطرناک نہیں: نئی تحقیق

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دودھ، دہی، پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ٹرانس فیٹس دل کی بیماری، فالج یا ذیابیطس کے خطرات میں اضافے سے منسلک نہیں ہیں۔

نیوٹریشن ریسرچ جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں یورپ، امریکا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد پر کی گئی 22 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے پایا کہ ڈیری مصنوعات میں موجود قدرتی ٹرانس فیٹس خون میں کولیسٹرول یا دیگر چکنائیوں کی سطح پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالتے اور نہ ہی ان کا تعلق دل کی بیماریوں یا ٹائپ ٹو ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرات سے ملا۔

ماہرین کے مطابق ٹرانس فیٹس کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جو صنعتی عمل کے ذریعے تیار شدہ اور پراسیسڈ غذاؤں میں شامل کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری قسم قدرتی طور پر گائے، بکری اور بھیڑ جیسے جانوروں سے حاصل ہونے والی ڈیری مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق صنعتی ٹرانس فیٹس ہی وہ قسم ہے جو دل کی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کے خطرات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ فوڈ لیبلنگ پالیسیوں میں اکثر قدرتی اور مصنوعی ٹرانس فیٹس کے درمیان فرق واضح نہیں کیا جاتا، جس سے صارفین میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں غذائی رہنما اصولوں اور فوڈ لیبلنگ میں اس فرق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

ماہرین نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ڈیری مصنوعات کو متوازن غذا کا حصہ بنانا چاہیے اور مجموعی غذائی عادات صحت پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ سادہ دودھ، دہی اور کم پراسیس شدہ ڈیری مصنوعات کو بہتر انتخاب قرار دیا گیا ہے، جبکہ اضافی چینی اور نمک والی اشیا سے احتیاط کی سفارش کی گئی ہے۔