جیل میں تقریباً مر ہی گیا تھا: وکرم بھٹ نے 70 روزہ قید کی ہولناک داستان سنا دی

بالی ووڈ کے معروف فلم ساز وکرم بھٹ نے مبینہ مالی دھوکہ دہی کے مقدمے میں ادے پور جیل میں گزارے گئے 70 دنوں کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ قید کے دوران وہ تقریباً مر ہی گئے تھے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں وکرم بھٹ نے بتایا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ شویتامبری کو 30 کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں جیل میں رہنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ وقت ان کی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا، تاہم جیل کے ساتھی قیدیوں نے ان کا غیر معمولی خیال رکھا۔

وکرم بھٹ نے بتایا کہ وہ 60 سے 80 قیدیوں کے ساتھ ایک ہی بیرک میں رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی انہیں محبت سے بھیشم پتاما کہہ کر پکارتے تھے، ان کے لیے کھانا لاتے، کپڑوں کا خیال رکھتے اور رات کے وقت ان سے خوفناک کہانیاں سنانے کی فرمائش کرتے تھے۔

فلم ساز کے مطابق وہ پہلے ہی ایک آٹو امیون بیماری اینکیلوزنگ اسپونڈیلائٹس میں مبتلا تھے، جس کے باعث جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد رہتا ہے۔ جیل میں سرد موسم اور ناموافق حالات نے ان کی تکلیف میں مزید اضافہ کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر اور جنوری کی سخت سردی میں سونا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ جس کروٹ لیٹتے، اسی طرف کولہے کی ہڈی میں شدید درد شروع ہو جاتا۔ اسی دوران انہیں یرقان (پیلیا) بھی ہو گیا، جس سے ان کی صحت مزید بگڑ گئی۔

وکرم بھٹ نے الزام لگایا کہ تیز بخار اور شدید کمزوری کے باوجود انہیں بروقت اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق بیرک میں موجود دیگر قیدی ان کی مدد کے لیے اپنے کمبل انہیں اوڑھا دیتے تھے، جبکہ وہ مسلسل طبی امداد اور اسپتال لے جانے کا مطالبہ کرتے رہے۔

جیل سے رہائی کے بعد وکرم بھٹ کو فلم انڈسٹری کے کئی افراد کے فون موصول ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ متھن چکرورتھی اورسنجےدت نے خصوصی طور پر ان کی خیریت دریافت کی۔ وکرم کے مطابق سنجے دت کا فون ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ انہوں نے کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکشے کمار سے رابطے کی انہیں توقع نہیں تھی کیونکہ دونوں کے درمیان قریبی دوستی نہیں ہے۔ البتہ اپنے دیرینہ دوست اجےدیوگن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا فون آنا فطری بات تھی کیونکہ دونوں کا تعلق برسوں پر محیط ہے۔۔