اسمارٹ فونز شرحِ پیدائش میں کمی کی بڑی وجہ بن گئے؟

امریکا میں ہونے والی دو نئی تحقیقات نے دنیا بھر میں تیزی سے گرتی شرحِ پیدائش کے حوالے سے ایک غیر متوقع وجہ کی نشاندہی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق 2007 میں اسمارٹ فونز، خصوصاً آئی فون، کی آمد کے بعد انسانی رویوں میں آنے والی تبدیلیوں نے شرحِ پیدائش میں نمایاں کمی میں اہم کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی ادارے نینشل بیورو آف اکنامک ریسرچ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا آئی فون مانع حمل کا کام کر رہا ہے؟۔

تحقیق کے مطابق 2007 کے بعد امریکہ میں شرحِ پیدائش میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی مکمل وضاحت معاشی بحران، تعلیم، مانع حمل ادویات یا بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات سے نہیں ہو سکی۔

تحقیق کرنے والی ماہرِ معاشیات کیٹیلین مائیرز اور ان کے ساتھی نے مختلف امریکی علاقوں میں موبائل فون کی دستیابی کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جہاں آئی فون تک رسائی زیادہ تھی وہاں 15 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں پیدائش کی شرح 4.5 سے 8 فیصد جبکہ 20 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں 3.2 سے 6.6 فیصد تک کم ہوئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز کے عام ہونے کے بعد لوگوں کے آمنے سامنے میل جول، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے اور جنسی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ آن لائن مواد اور پورنوگرافی کے استعمال میں اضافہ ہوا، جو ممکنہ طور پر حقیقی تعلقات کا متبادل بن گیا۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف سنسناٹی کے ماہرین کی ایک الگ تحقیق میں 128 ممالک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں بھی یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اسمارٹ فونز کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں کمی کی رفتار تیز ہو گئی۔ محققین نے اس رجحان کو ایک عالمی ٹیکنالوجی شاک قرار دیا۔

تاہم بعض ماہرین ان نتائج پر مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نوعمر افراد کی شرحِ پیدائش 1990 کی دہائی سے ہی کم ہونا شروع ہو گئی تھی، جو اسمارٹ فونز کی آمد سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس لیے شرحِ پیدائش میں کمی کی تمام تر ذمہ داری اسمارٹ فونز پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

دنیا کے متعدد ممالک اس وقت کم ہوتی شرحِ پیدائش کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ چین، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک آبادی میں کمی اور عمر رسیدہ معاشروں کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ متوسط آمدنی والے ممالک میں بھی شرحِ پیدائش تیزی سے گر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں افرادی قوت میں کمی، سماجی تحفظ کے نظام پر دباؤ اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔