آج کی نسل ہمیشہ رہنے والی محبت ڈھونڈ رہی ہے: امتیازعلی

بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار امتیاز علی کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج کا دور ایکشن، تشدد اور بڑے بجٹ کی فلموں کا ہے، لیکن نوجوان نسل اب بھی ایسی محبت کی تلاش میں ہے جو وقت کی آزمائش پر پوری اتر سکے۔

اے ایف پی کو دیئے گئے انٹرویو میں امتیاز علی نے اپنی نئی فلم میں واپس آؤں گا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوانوں کے پاس بے شمار انتخاب موجود ہیں، لیکن اسی وجہ سے وہ ایک ایسی وابستگی کے خواہاں ہیں جو مستقل اور حقیقی ہو۔

ان کے مطابق ہر چیز اتنی آسانی سے دستیاب ہو گئی ہے کہ بہت سی چیزوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے، اسی لیے اب ایک ایسی محبت کی کہانی سنانے کا وقت ہے جو ہمیشہ قائم رہے۔

امیتاز علی کی 12 جون کو ریلیز ہونے والی فلم “میں واپس آؤں گا” تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط محبت کی ایک داستان بیان کرتی ہے۔ فلم کا خیال تقسیمِ ہند کے دوران بچھڑ جانے والے خاندانوں کی حقیقی کہانیوں سے لیا گیا ہے۔

امتیاز علی نے بتایا کہ فلم کی بنیاد دو بزرگ افراد کی کہانی پر رکھی گئی جو 91 اور 95 برس کی عمر میں بھارت اور پاکستان کی سرحد تک صرف اس امید میں پہنچے کہ وہ اپنے بچپن کے گاؤں دوبارہ دیکھ سکیں۔

ہدایتکار کے مطابق فلم میں دکھائے گئے بیشتر واقعات حقیقی زندگی سے ماخوذ ہیں اور یہ دراصل محبت کی مختلف کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں اینیمل، دھروندر اور پشپا جیسی ایکشن فلموں نے باکس آفس پر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم امتیاز علی اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کہ ناظرین صرف تشدد اور سنسنی ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسی فلم کی کامیابی کا دارومدار اس کے موضوع سے زیادہ فلم ساز کے جذبے اور خلوص پر ہوتا ہے۔

فلم میں واپس آؤں گا میں دلجیت دوسانجھ، نصیر الدین شاہ ، ویدانگ رائینا اور شروری واگھ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امتیاز علی کے مطابق یہ فلم صرف رومانس نہیں بلکہ اس پیغام کے گرد گھومتی ہے کہ محبت انسان کو بڑے سے بڑے دکھ اور سانحے میں بھی جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے نوجوان اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ایسی لازوال محبت صرف ماضی میں ممکن تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل اب بھی اسی محبت کی تلاش میں ہے اور اسے فلموں میں دیکھنا چاہتی ہے۔