مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) طبی شعبے میں تیزی سے اپنی اہمیت منوا رہی ہے اور اب ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اے آئی کی مدد سے بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات بیماری کی باضابطہ تشخیص سے تقریباً چھ سال پہلے تک شناخت کی جا سکتی ہیں۔
طبی جریدے ریڈیو لوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تین تجارتی بنیادوں پر دستیاب اے آئی سسٹمز نے خواتین کے پرانے میموگرامز کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسے معمولی تغیرات کی نشاندہی کی، جنہیں عام طور پر انسانی آنکھ یا روایتی اسکریننگ کے ذریعے فوری طور پر پہچاننا ممکن نہیں ہوتا۔
سویڈن میں کی جانے والی اس تحقیق کے دوران 2008 سے 2019 کے درمیان 31 ہزار سے زائد خواتین کے تقریباً 89 ہزار میموگرامز کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں ان میں سے 12 ہزار سے زیادہ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔
محققین نے ماضی کے ان میموگرامز پر تین اے آئی سسٹمز کا اطلاق کیا اور پایا کہ یہ ٹیکنالوجی بعض کیسز میں کینسر کی ممکنہ علامات باضابطہ تشخیص سے چھ سال پہلے تک شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 20 فیصد خواتین میں اے آئی نے چھ سال قبل ہی ایسے اشارے دریافت کر لیے تھے، جبکہ چار سال پہلے یہ شرح 25 فیصد اور دو سال پہلے تقریباً 39 فیصد تک پہنچ گئی۔
تحقیق کے سینئر شریک مصنف اور اسٹاک ہوم کے کیرولنسکا یونیورسٹی اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر فریڈرک اسٹرینڈ کا کہنا ہے کہ کئی مریضوں میں کینسر کی ایسی علامات موجود ہوتی ہیں جنہیں اے آئی برسوں پہلے شناخت کر لیتی ہے، جبکہ انسانی ریڈیولوجسٹ انہیں بعد میں مشتبہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی کی مدد سے نہ صرف کینسر کی جلد تشخیص ممکن ہو سکتی ہے بلکہ مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر اور انفرادی نوعیت کے علاج کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کے کام کا بوجھ کم کرنے اور تشخیص میں غلطیوں کے امکانات کو بھی محدود کر سکتی ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق ماضی کے ریکارڈ پر مبنی تھی، اس لیے ابھی مزید مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اے آئی کے ذریعے ابتدائی طور پر شناخت کی جانے والی تبدیلیاں واقعی سرطان کی ابتدائی علامات ہیں یا صرف مستقبل میں بیماری کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ تحقیقات میں بھی ایسے ہی نتائج سامنے آئے تو مصنوعی ذہانت بریسٹ کینسر کی اسکریننگ اور بروقت تشخیص کے نظام میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے، جس سے لاکھوں خواتین کو بیماری کے ابتدائی اور قابل علاج مرحلے میں مدد فراہم کی جا سکے گی۔











