اہم ترین

آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود عالمی معیشت اور بحری سفر کی بحالی وقت طلب کام

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے بعد، دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو جمعہ کے روز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ تزویراتی گزرگاہ گزشتہ تقریباً چار ماہ سے بند تھی، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ گزرگاہ کھلنے کے باوجود بحری ٹریفک کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی چیمبر آف شپنگ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایرانی تصادم کے باعث اس بندش کی وجہ سے خلیجی پانیوں میں تقریباً 500 بحری جہاز اور 20000 ملاح (سی فیئرز) پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ جہازوں کا عملہ فوری حرکت کے لیے تیار ہے، لیکن طویل عرصے تک کھڑے رہنے کی وجہ سے کئی جہازوں کو نیچے سے صفائی کی ضرورت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے منسلک آئل ٹینکرز سب سے پہلے اس راستے کا رخ کریں گے۔ تاہم، انشورنس کمپنیاں اور آپریٹرز ابھی بھی محتاط ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے کے مرکزی حصے کو بارودی سرنگوں کا خطرہ (مائن ڈینجر زون ) قرار دیے جانے کے باعث، جہاز فی الحال ساحلی راستوں کا استعمال کریں گے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی پر مشتمل یورپی اتحاد مارچ سے ان بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ یہ راستہ طویل مدت کے لیے ٹول فری ہوگا۔ اس کے برعکس، ایرانی وزارتِ خارجہ کا مؤقف ہے کہ وہ ٹول ٹیکس نہیں بلکہ بحری سروس فیس وصول کریں گے۔ یہ فیس شپنگ کمپنیوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے کیونکہ یہ رقم بالواسطہ پاسدارانِ انقلاب کو جا سکتی ہے، جسے کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی برآمدات کو جنگ سے پہلے کی سطح پر آنے اور سپلائی چین کو مکمل بحال ہونے میں 4 سے 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ کئی عالمی خریداروں نے اس دوران امریکا اور نائجیریا جیسے متبادل سپلائرز سے نئے تجارتی معاہدے کر لیے ہیں۔

پاکستان