یورپ کا سب سے بڑا سالانہ ٹیکنالوجی تجارتی میلہ ویوا ٹیک پیرس میں جاری ہے ، جہاں ایک طرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا جوش و خروش عروج پر ہے تو دوسری طرف غیر ملکی ٹیکنالوجی پر یورپ کے انحصار نے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس سال میلے کے مہمانِ اعزازی امیزون اور ‘بلیو اوریجن’ کے بانی جیف بیزوس ہیں، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس میلے کا دورہ کریں گے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ میلہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے غیر امریکی صارفین پر اے آئی ماڈلز فیبل اور مائیتھوس کے استعمال پر پابندی کے بعد یورپ میں سیکیورٹی اور ڈیجیٹل خودمختاری کی بحث تیز ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے ردعمل میں فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے “فرینکو-جرمن فورم فار دی فیوچر” کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی ڈیجیٹل سروسز کے مقامی متبادل تلاش کرنا ہے۔
اسی ڈیجیٹل خودمختاری کی ایک بڑی مثال فرانسیسی انٹیلیجنس ایجنسی (ڈی جی ایس آئی) کا فیصلہ ہے، جس نے امریکی ڈیٹا کمپنی پلانٹیر کا کنٹریکٹ ختم کر کے مقامی کمپنی چیپس وژن کو ڈیٹا مانیٹرنگ کا کام سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں کسی نئی سیکیورٹی وابستگی کو قبول نہیں کر سکتے۔
پیرس میں جاری چار روزہ میلے میں دنیا بھر سے تقریباً 15 ہزار اسٹارٹ اپس اپنی ایجادات پیش کر رہے ہیں، جن میں جرمنی کے 200 سے زائد اسٹارٹ اپس بھی شامل ہیں۔ میلے میں چپ بنانے والی یورپ کی سب سے بڑی کمپنی اے ایس ایم ایل کے سربراہ اور اوپن سورس اے آئی ایجنٹ اوپن کلاؤ کے خالق پیٹر اسٹین برگر بھی شرکت کر رہے ہیں۔











