متحدہ عرب امارات نے ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے گرین ویزا کے حصول کا طریقہ کار واضح کر دیا ہے، جس کے تحت دبئی میں کام کرنے والے اہل افراد پانچ سالہ رہائشی اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں۔
یو اے ای گرین ویزا 2022 میں متعارف کرائے گئے نئے رہائشی نظام کا حصہ ہے، جو روایتی اقامتی نظام کے مقابلے میں زیادہ سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ اس ویزا کی مدت پانچ سال ہوتی ہے اور اسے تجدید بھی کیا جا سکتا ہے۔
گرین ویزا رکھنے والے افراد کو قریبی خاندان کے افراد کو اسپانسر کرنے کی اجازت ہوتی ہے، جبکہ ویزا منسوخی کی صورت میں انہیں ملک میں رہنے کے لیے زیادہ طویل مہلت بھی دی جاتی ہے۔
گرین ریزیڈنسی تین بڑی کیٹیگریز ہنرمند کارکن ، سرمایہ کار اور کاروباری شراکت داروں کے لیے دستیاب ہے۔
ہنرمند کارکن کے طور پر درخواست دینے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار کے پاس وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن (موہرے) کا منظور شدہ ورک پرمٹ ہو اور وہ کسی درست ملازمت کے معاہدے کے تحت کام کر رہا ہو۔ سرکاری، نیم سرکاری یا فری زون اداروں کے ملازمین بھی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔
درخواست گزار کو موہرے (ایم او ایچ آر ای)کے پیشہ ورانہ درجہ بندی نظام میں اسکل لیول 1، 2 یا 3 میں شامل ہونا چاہیے، جبکہ کم از کم بیچلر ڈگری یا اس کے مساوی تعلیمی قابلیت بھی لازمی ہے۔
گرین ویزا کے لیے بنیادی مالی شرط یہ ہے کہ امیدوار کی ماہانہ تنخواہ کم از کم 15 ہزار درہم ہو۔
درخواست کے ساتھ عام طور پر کم از کم چھ ماہ تک قابلِ استعمال پاسپورٹ کی کاپی، حالیہ پاسپورٹ سائز تصویر، موہرے ورک پرمٹ ، ملازمت کا معاہدہ اور تنخواہ کا سرٹیفیکیٹ یا بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ہوتا ہے۔
دبئی میں درخواست گزار گرین ویزا کے لیے جی ڈی آر ایف اے دبئی کے آن لائن پورٹل یا امیر سینٹر کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔
گرین ویزا کی بنیادی درخواست فیس 200 درہم ہے، جس پر 5 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر درخواست گزار پہلے سے متحدہ عرب امارات کے اندر موجود ہو تو اضافی فیس بھی شامل ہو سکتی ہے، جن میں نالج درہم، انوویشن درہم اور اندرونِ ملک درخواست کی فیس شامل ہے۔
حکام کے مطابق درخواست گزاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ موجودہ رہائشی ویزا اس وقت تک منسوخ نہ کریں جب تک گرین ریزیڈنسی کی منظوری نہ ہو جائے، تاکہ قانونی رہائش میں خلل پیدا نہ ہو۔











