اہم ترین

یوٹیوب یا انسٹاگرام؟ کریئیٹرز زیادہ پیسہ کہاں سے کماتے ہیں؟

سوشل میڈیا اب صرف تفریح یا رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسی صنعت بن چکا ہے جہاں لاکھوں افراد کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ ایسے میں نئے اور پرانے کانٹینٹ کریئیٹرز کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ زیادہ آمدنی یوٹیوب سے حاصل ہوتی ہے یا انسٹاگرام سے؟

ماہرین کے مطابق اگر براہِ راست اور مستقل آمدنی کی بات کی جائے تو یوٹیوب اب بھی کریئیٹرز کی پہلی ترجیح ہے۔ یوٹیوب اپنے پارٹنر پروگرام کے ذریعے ویڈیوز پر چلنے والے اشتہارات کی آمدنی کا حصہ تخلیق کاروں کو دیتا ہے، جبکہ چینل ممبرشپ، سپر چیٹ، سپر تھینکس اور پریمیئم ریونیو جیسے متعدد ذرائع بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب انسٹاگرام پر کمائی کا ماڈل مختلف ہے۔ یہاں زیادہ تر آمدنی برانڈ ڈیلز، اسپانسرڈ پوسٹس، افیلی ایٹ مارکیٹنگ اور پروموشنل مہمات سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسٹاگرام پر کامیابی کا انحصار فالوورز کی تعداد اور ان کی مصروفیت (انگیجمنٹ) پر زیادہ ہوتا ہے۔

2025 کی فوربز رپورٹ کے مطابق دنیا کے 50 بڑے کریئیٹرز نے ایک سال میں مجموعی طور پر 853 ملین ڈالر سے زائد کمائی کی۔ فہرست میں سرفہرست یوٹیوبر مسٹر بیسٹ رہے، جن کی سالانہ آمدنی تقریباً 85 ملین ڈالر بتائی گئی۔ ان کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ یوٹیوب طویل المدتی اور مستحکم آمدنی کے لیے اب بھی سب سے مضبوط پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

تاہم انسٹاگرام بھی کم اہم نہیں۔ فیشن، بیوٹی، فٹنس اور لائف اسٹائل کے شعبوں سے وابستہ انفلوئنسرز ایک اسپانسرڈ پوسٹ کے عوض لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ بڑے برانڈز اپنی تشہیری مہمات کے لیے انسٹاگرام اسٹارز کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے کامیاب ڈیجیٹل کریئیٹرز کسی ایک پلیٹ فارم پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ یوٹیوب سے مستقل ریونیو حاصل کرتے ہیں جبکہ انسٹاگرام کے ذریعے برانڈ پارٹنرشپ اور اسپانسرشپ سے اضافی آمدنی کماتے ہیں۔

نتیجتاً، اگر مقصد طویل عرصے تک مستحکم آمدنی حاصل کرنا ہے تو یوٹیوب زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، جبکہ برانڈ ڈیلز اور ذاتی تشخص (پرسنل برانڈنگ) کے لیے انسٹاگرام ایک مضبوط انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید کریئیٹرز دونوں پلیٹ فارمز کو یکجا کرکے اپنی کمائی اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

پاکستان