یورپ کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ فرانس میں ہیٹ ویو کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں پیرس کے نواحی علاقے میں تین سالہ بچہ گاڑی کے اندر مردہ حالت میں پایا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ رواں ہفتے فرانس میں شدید گرمی کے باعث گاڑی کے اندر بچوں کی ہلاکت کا تیسرا واقعہ ہے۔ بچے کے والدین نے اسے گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں پایا، جس کے بعد امدادی اداروں نے ساں گراتیاں کے علاقے میں بچے کی موت کی تصدیق کی۔
اس سے قبل جنوبی فرانس کے شہر کارپونترا میں دو اور چار سال عمر کے دو بچے بھی اپنے خاندان کی گاڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق دونوں بچے گھر کے ڈرائیو وے میں کھڑی گاڑی سے ملے تھے۔
فرانسیسی محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کا دن 1947 کے بعد جون کے مہینے کا گرم ترین دن ثابت ہوا، جب ملک کا قومی اوسط درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
دارالحکومت پیرس میں بھی شدید گرمی ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 40.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ گزشتہ ڈیڑھ صدی میں یہ چوتھا موقع ہے کہ پیرس میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا۔
پیرس کے میئر نے بتایا کہ شدید گرمی سے متعلق اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔
فرانسیسی حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران بچوں اور پالتو جانوروں کو گاڑی میں ہرگز اکیلا نہ چھوڑیں، کیونکہ بند گاڑی کے اندر درجہ حرارت چند منٹوں میں خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں جاری ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک مثال ہے۔ فرانس سمیت کئی ممالک میں ہیٹ الرٹس جاری ہیں جبکہ شہریوں کو پانی زیادہ پینے، دھوپ سے بچنے اور کمزور افراد کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔











