تائیوان کے مشرقی ساحلی گاؤں مگانگ میں 72 سالہ وو فینگ چیاؤ آج بھی سمندر کی تیز لہروں اور پھسلن بھری چٹانوں کا سامنا کرتے ہوئے سمندری گھاس جمع کرتی ہیں، مگر انہیں خدشہ ہے کہ ان کے بعد یہ صدیوں پرانی روایت ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔
وو گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے یہ ہنر نوجوانی میں اپنے والد سے سیکھا تھا اور آج بھی روزانہ سمندر سے اسٹون فلاور کہلانے والی ایک خاص قسم کی سمندری گھاس اکٹھی کرتی ہیں، جس سے بعد میں اگر اگر جیلی تیار کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کام نہایت محنت طلب اور خطرناک ہے کیونکہ بڑی لہروں کے دوران معمولی سی غلطی بھی شدید چوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود وہ بھاری بوریوں میں تقریباً 20 سے 25 کلوگرام سمندری گھاس اٹھا کر چٹانوں کے درمیان سے واپس لاتی ہیں۔
سمندری گھاس کو کئی دن دھوپ میں خشک کرنے، صاف کرنے اور ابالنے کے بعد اس سے جیلی نما مادہ حاصل کیا جاتا ہے۔ تقریباً 300 گرام خشک سمندری گھاس سے 50 بوتلیں تیار کی جا سکتی ہیں، جو مقامی سطح پر فروخت کی جاتی ہیں۔
وو کے مطابق مگانگ گاؤں میں اب صرف چار خواتین باقی رہ گئی ہیں جو باقاعدگی سے یہ روایت نبھا رہی ہیں، اور ان سب کی عمریں 70 برس سے زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل روزگار اور بہتر مواقع کی تلاش میں شہروں کا رخ کر رہی ہے، جس کے باعث یہ ثقافتی ورثہ تیزی سے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال سمندری گھاس کی پیداوار بھی معمول سے کم رہی ہے، جبکہ ساحلی علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں نے بھی مقامی طرزِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔
اسی خطرے کے پیش نظر مقامی افراد نے 2018 میں ایک ثقافتی تنظیم قائم کی تاکہ مگانگ کے تاریخی پتھریلے گھروں اور ہائنو ( سی ویمن) کی اس منفرد روایت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
وو فینگ چیاؤ کا کہنا ہے کہ وہ عمر کے اس حصے میں بھی اس کام کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول، جب سمندر پرسکون نظر آتا ہے تو وہ خود کو وہاں جانے سے روک نہیں پاتیں، کیونکہ یہ صرف روزگار نہیں بلکہ ان کی شناخت اور زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔











