امریکی حکومت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی اہنتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز فیبل 5 اور مائتھوس 5 پر عائد برآمدی پابندیاں ختم کر دی ہیں، جس کے بعد کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد دنیا بھر میں ان ماڈلز تک رسائی دوبارہ فراہم کرنا شروع کرے گی۔
کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ تجارت کی جانب سے برآمدی پابندیاں ختم کرنے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد دونوں اے آئی ماڈلز کی عالمی دستیابی بحال کی جا رہی ہے۔
امریکی حکومت نے 12 جون کو قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ان ماڈلز کی بیرونِ ملک فراہمی پر پابندی عائد کی تھی۔ حکام کا مؤقف تھا کہ ان اے آئی سسٹمز کے حفاظتی انتظامات میں کچھ ایسی کمزوریاں سامنے آئی تھیں جن سے ان کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا تھا۔ بعد ازاں کمپنی نے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا، جس کے بعد پابندی ہٹا دی گئی۔
ایتھروپک کے مطابق فیبل 5 اور مائتھوس 5 سائبر سیکیورٹی اور ہیکنگ کے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آزمائشی مراحل کے دوران ان ماڈلز نے کئی معاملات میں انسانی ماہرین سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہزاروں سنگین سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی، جن میں مختلف آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز کی کمزوریاں بھی شامل تھیں۔
کمپنی کے مطابق یہ اے آئی پرانے کمپیوٹر سسٹمز میں برسوں سے موجود سیکیورٹی خامیوں کو بھی تلاش کر سکتا ہے، حتیٰ کہ ایک ایسی خامی بھی دریافت کی گئی جو 27 سال سے موجود تھی۔ ماڈلز نہ صرف کمزوریاں تلاش کر سکتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان سے فائدہ اٹھانے کے ممکنہ طریقوں کی بھی نشاندہی کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
جدید اے آئی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے عالمی سطح پر تشویش بھی پیدا کر دی ہے۔ مالیاتی اداروں، مرکزی بینکوں اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسے طاقتور اے آئی ٹولز غیر ذمہ دار عناصر کے ہاتھ لگ جائیں تو مالیاتی نظام اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے جدید اے آئی ماڈلز کی طاقت کو “ڈیجیٹل ایٹمی ہتھیار” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام پر ان کے ممکنہ اثرات پر اعلیٰ سطح پر مسلسل غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اے آئی کمپنی اوپن اے آئی نے بھی اپنے نئے طاقتور ماڈل جی پی ٹی 5.6 کی دستیابی فی الحال محدود رکھی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی سطح پر احتیاط کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔











