چہرے پر موجود بھنویں بظاہر ایک معمولی خصوصیت معلوم ہوتی ہیں، لیکن سائنس دانوں کے مطابق یہ صرف آنکھوں کی حفاظت یا خوبصورتی بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ انسانی ارتقا، چہرے کی شناخت اور جذبات کے اظہار میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھنویں پسینہ، بارش اور گردوغبار کو آنکھوں میں جانے سے روک کر آنکھوں کی حفاظت کرتی ہیں، تاہم ان کی اصل اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ابتدائی انسانوں کے چہروں پر آنکھوں کے اوپر ہڈی کی ابھری ہوئی تہہ موجود ہوتی تھی، جو وقت کے ساتھ کم ہوتی گئی۔ اس کی جگہ ایسی بھنویں وجود میں آئیں جو حرکت کر سکتی تھیں اور مختلف جذبات کے اظہار کا ذریعہ بن گئیں۔
سائنسی جریدے نیچر ایکو لوجی اینڈ ایوولوشنمیں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چہرے کی بھاری ہڈیوں میں کمی کے بعد انسانوں نے بھنوؤں کی حرکت کے ذریعے خوشی، حیرت، تشویش اور سوال جیسے جذبات زیادہ مؤثر انداز میں ظاہر کرنا شروع کیے، جس سے سماجی رابطے بہتر ہوئے۔
اسی طرح 2003 میں ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ اگر تصاویر سے بھنویں ہٹا دی جائیں تو لوگوں کے لیے چہروں کو پہچاننا نمایاں طور پر مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ صرف آنکھیں غائب ہونے کی صورت میں یہ مشکل نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرے کی شناخت میں بھنوؤں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنویں بغیر الفاظ کے بھی بہت کچھ بیان کر دیتی ہیں۔ بھنویں اٹھانا اکثر حیرت، خوشی یا کسی کو پہچاننے کی علامت ہوتا ہے، جبکہ انہیں سکیڑنا تشویش، الجھن یا سوال کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ یہی غیر لفظی اشارے انسانوں کے درمیان مؤثر رابطے کو ممکن بناتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق چہرے کے ایسے تاثرات نے انسانوں کو بڑے اور مضبوط سماجی گروہ تشکیل دینے میں مدد دی، جو انسانی ارتقا میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ہمارے قدیم رشتہ داروں کے چہرے نسبتاً سخت اور خوفناک دکھائی دیتے تھے، جبکہ متحرک بھنوؤں نے جدید انسان کو زیادہ دوستانہ، جذباتی اور قابلِ فہم بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھنویں نہ صرف ہماری شخصیت کا حصہ ہیں بلکہ دوسروں سے تعلق اور رابطے کا بھی ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔











