اہم ترین

غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اب بھی ایجنڈے پر ہے: نیتن یاہو کی شرمناک ڈھٹائی

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی رضاکارانہ منتقلی کا منصوبہ اب بھی ان کی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جبکہ غزہ میں اسرائیلی آبادکاری سے متعلق سوال پر انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینل چینل 14 کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو سے غزہ کے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کی بے دخلی اور وہاں اسرائیلی بستیوں کے قیام سے متعلق سوالات کیے گئے، جنہیں اسرائیلی حکومت کے دائیں بازو کے اتحادیوں کے اہم مطالبات قرار دیا جاتا ہے۔

غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے بارے میں نیتن یاہو نے کہا کہ “رضاکارانہ ہجرت” کا منصوبہ اب بھی زیر غور ہے۔ تاہم غزہ میں نئی اسرائیلی بستیوں کے قیام کے سوال پر انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ باتوں کے بجائے عمل کو ترجیح دیتے ہیں اور اس موضوع پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

نیتن یاہو کے اس بیان پر ناقدین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین پہلے ہی “رضاکارانہ ہجرت” کی اصطلاح کو جنگ سے تباہ حال غزہ سے فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی یا نسلی تطہیر کے لیے استعمال ہونے والی نرم تعبیر قرار دیتے رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل نیتن یاہو نے ایک اور بیان میں دریائے اردن سے بحیرہ روم تک دو ریاستی حل کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خطے میں فلسطینی اور اسرائیلی ریاستیں ساتھ ساتھ قائم ہونے کی گنجائش نہیں۔

نیتن یاہو کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر غزہ کے مستقبل، فلسطینی آبادی کی نقل مکانی اور خطے میں امن کے امکانات پر بین الاقوامی بحث کو تیز کر دیا ہے۔

پاکستان