اہم ترین

ویتنام حکومت گھٹتی آبادی سے پریشان: دوسرے بچے کی پیدائش پر مالی تعاون کا اعلان

ویتنام نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی دو بچوں کی پالیسی ختم کرنے کے ایک سال بعد اب شہریوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے نئی مراعات متعارف کرا دی ہیں۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ ملک “امیر ہونے سے پہلے بوڑھا” ہو سکتا ہے۔

نئے آبادی قانون کے تحت دوسرے بچے کو جنم دینے والی خواتین کے لیے زچگی کی چھٹی چھ ماہ سے بڑھا کر سات ماہ کر دی گئی ہے، جبکہ حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے طبی معائنے کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

کچھ خاندانوں کو دوسرے بچے کی پیدائش پر ایک مرتبہ نقد رقم بھی دی جائے گی، جو مخصوص شرائط پوری کرنے پر تقریباً 228 ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

ویتنام میں اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کی نمائندہ فام تھی لان کے مطابق یہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ ملک اب خاندانی منصوبہ بندی کو کنٹرول کرنے کے بجائے آبادی کی ترقی پر توجہ دے رہا ہے۔

ویتنام میں دو بچوں کی پالیسی کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا تھا، جبکہ 1988 میں اسے باقاعدہ پالیسی کی شکل دی گئی۔ تاہم حالیہ برسوں میں بڑھتی عمر کی توقع اور کم ہوتی شرحِ پیدائش نے حکومت کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ویتنام کی شرحِ پیدائش اس وقت 2.1 بچوں فی خاتون کی متبادل سطح سے کم ہو کر تقریباً 1.93 تک آ گئی ہے۔ اگرچہ یہ شرح کئی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مسلسل کمی مستقبل میں مزدوروں کی قلت اور سماجی تحفظ کے نظام پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

بعض خاندانوں کا کہنا ہے کہ صرف مالی مدد کافی نہیں۔ ان کے مطابق دوسرے بچے کے لیے اضافی چھٹی اور محدود رقم اچھی پیشکش ہے، لیکن بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات کے مقابلے میں یہ کافی نہیں۔

ماہرین کے مطابق ویتنام کو صرف ایک مرتبہ ملنے والی مراعات کے بجائے طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں بچوں کی دیکھ بھال، رہائش اور خاندانوں کے لیے مسلسل مالی تعاون شامل ہو۔

ورلڈ بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ ویتنام کو بڑھتی عمر کی آبادی کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم وقت ملا ہے، کیونکہ ملک ابھی مکمل طور پر دولت مند معیشت نہیں بن سکا۔

حکومت کے لیے اصل چیلنج اب یہ ہے کہ نوجوان نسل کو خاندان بڑھانے کے لیے کیسے آمادہ کیا جائے، کیونکہ کئی شہری مالی اور ذہنی دباؤ کے باعث بچوں کی تعداد کم رکھنے یا بچے نہ رکھنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

پاکستان