اہم ترین

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی باقاعدہ تدفین کے لئے تقریبات کا آغاز

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور جنازے کے جلوس 3 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں منعقد کیے جائیں گے، جبکہ ان کی تدفین 9 جولائی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے قریب کی جائے گی۔

ایرانی حکام کے مطابق اس سات روزہ سوگ پروگرام میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ دنیا بھر سے مذہبی شخصیات، سرکاری نمائندے اور اہم رہنما بھی تعزیت اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے شریک ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین ابتدائی طور پر مارچ میں ہونا تھی، تاہم ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث یہ پروگرام مؤخر کر دیا گیا تھا۔

علی خامنہ ای کو 28 فروری کو جنگ کے پہلے روز اپنے کمپاؤنڈ پر ہونے والے امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے خاندان کے چند افراد کے ہمراہ شہید کیا گیا تھا۔

آخری رسومات اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ ان کے جانشین اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے دور میں ہونے والی پہلی بڑی سرکاری تقریب ہوگی۔ مجتبیٰ خامنہ ای امریکا۔اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے عوامی منظرنامے سے کافی حد تک دور رہے ہیں، اس لیے یہ تقریب نئی قیادت کے لیے بھی ایک اہم سیاسی اور مذہبی لمحہ سمجھی جا رہی ہے۔

ایرانی اور عراقی حکام کے مطابق علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سات روزہ سلسلہ 3 جولائی کو تہران سے شروع ہوگا۔ پہلے روز ایران کے دارالحکومت میں عالمی رہنماؤں، اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنماؤں اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے علما کی موجودگی میں تعزیتی تقریبات منعقد ہوں گی، جہاں مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

تہران میں 4 اور 5 جولائی کو عوامی نماز جنازہ ہوں گی۔ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر شہید افراد کے جسد خاکی عوام کے آخری دیدار اور الوداعی سلام کے لئے تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں رکھے جائیں گے ۔

شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہل خانہ کے جسد خاکی 6 اور 7 جولائی کو تہران کے مختلف علاقوں سے گزارے جائیں گے، جس کے بعد یہ قافلہ قُم منتقل ہوگا۔

ایرانی اور عراقی حکام کے مطابق 8 جولائی کو نجف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی جائے گی، جس کے بعد عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں ان کے جسد خاکی پہنچائے جائیں گے۔

سات روزہ تقریبات کے بعد علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو واپس ایران لایا جائے گا، جہاں 9 جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی۔

یہ سات روزہ جنازہ اور تدفینی سلسلہ محض ایک مذہبی یا سرکاری تقریب نہیں، بلکہ ایران کے اندرونی سیاسی منظرنامے، نئی قیادت کی علامتی پیش کش، اور خطے میں شیعہ مذہبی و سیاسی اثر کے اظہار کا بھی ایک اہم موقع بننے جا رہا ہے۔

پاکستان