جنوبی کوریا نے شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کے باعث اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایمرجنسی ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکومت نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے، ٹھنڈی جگہوں پر رہنے اور تمام بیرونی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی ہے۔
جنوبی کوریا کے محکمہ موسمیات (KMA) کے سربراہ لی می سون کے مطابق اتوار کی صبح شمالی گیونگ سانگ صوبے کے دو شہروں گیونگ سان اور پوہانگ کے لیے صبح 10 بجے ہنگامی ہیٹ ویو وارننگ جاری کی گئی، جو رواں سال متعارف کرائے گئے نئے انتباہی نظام کے تحت پہلی مرتبہ نافذ کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ ایمرجنسی اس وقت جاری کی جاتی ہے جب محسوس ہونے والا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا حقیقی درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی ہو۔ متاثرہ علاقوں میں ہفتہ اور اتوار کے دوران درجہ حرارت اس خطرناک حد تک پہنچ گیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ یہ صرف شدید گرمی کی وارننگ نہیں بلکہ ایسی صورتحال کی نشاندہی ہے جس میں صحت مند افراد بھی ہیٹ اسٹروک، گرمی سے متعلق بیماریوں اور حتیٰ کہ موت کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد فوری طور پر اپنا کام روک دیں اور ٹھنڈی جگہ منتقل ہو جائیں۔ اس کے علاوہ بچوں یا پالتو جانوروں کو کسی بھی صورت گاڑی کے اندر تنہا نہ چھوڑا جائے۔
ملک کے بیشتر علاقے، جن میں دارالحکومت سیول کے کئی حصے بھی شامل ہیں، پہلے ہی ہیٹ ویو وارننگ کے تحت ہیں۔ یہ وارننگ اس وقت جاری کی جاتی ہے جب محسوس ہونے والا درجہ حرارت مسلسل دو دن تک 35 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہو۔
شدید گرمی سے بچنے کے لیے شہری ایئر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز اور دیگر ٹھنڈی جگہوں کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ بچے سیول کے گوانگ ہوا مون اسکوائر میں فواروں کے پانی سے گرمی کم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی کوریا میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سالانہ اوسط ہیٹ ویو دنوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے، جبکہ 1970 کی دہائی میں یہ اوسط صرف 8 دن تھی۔ اسی طرح گرم راتوں کی سالانہ اوسط تعداد 4 سے بڑھ کر 14 ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں زیادہ طویل، زیادہ شدید اور زیادہ بار آنے لگی ہیں۔
ادھر یورپ بھی اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ فرانس میں جون کی ہیٹ ویو کے دوران دو ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ جرمنی، پولینڈ، جمہوریہ چیک، سلوواکیہ، ہنگری، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں بھی درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رواں سال ایل نینو کے دوبارہ فعال ہونے سے عالمی سطح پر گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔










