دنیا بھر میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 20 سے زائد ممالک یا تو نئے قوانین نافذ کر چکے ہیں یا پھر کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔
یورپی یونین بھی اس معاملے پر اہم پیش رفت کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یورپی کمیشن کو پیر کے روز ایک ماہر کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی، جن میں 27 رکنی یورپی یونین میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی یا سخت ضوابط کی تجاویز شامل ہوں گی۔
آسٹریلیا میں دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ ہے۔
برازیل نے مارچ میں قانون منظور کیا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس والدین کے اکاؤنٹس سے منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق بھی کرنا ہوگی۔
چین میں 2019 سے مرحلہ وار پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ابتدا میں آن لائن گیمنگ پر وقت کی پابندیاں لگائی گئیں، بعد ازاں 2023 میں یہی پابندیاں سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک بھی بڑھا دی گئیں۔
انڈونیشیا نے مارچ 2026 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر دی، جبکہ ملائیشیا میں جون سے اسی نوعیت کا قانون نافذ العمل ہو چکا ہے۔
ترکی نے بھی 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون منظور کر لیا ہے، جس پر 2026 کے آخر تک عمل درآمد متوقع ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی گزشتہ ماہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کیا، جسے آئندہ تقریباً ایک سال میں نافذ کیا جائے گا۔
یورپ میں یونان نے یکم جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی کا اعلان کیا ہے۔
آسٹریا، سلووینیا، جرمنی، سویڈن، آئرلینڈ اور ڈنمارک بھی اسی نوعیت کے قوانین پر کام کر رہے ہیں۔ جرمنی میں مختلف عمر کے حساب سے پابندیاں یا مخصوص پلیٹ فارمز پر قدغن لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
یورپ سے باہر ناروے، برطانیہ، کینیڈا اور بھارت بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت قوانین لانے پر غور کر رہے ہیں۔
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل پارلیمنٹ میں زیر غور ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ نیا قانون ستمبر سے نافذ ہو جائے۔
اسپین سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی کم از کم عمر 14 سے بڑھا کر 16 سال کرنا چاہتا ہے۔ پرتگال بھی آزادانہ سوشل میڈیا استعمال کی عمر 16 سال مقرر کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ اٹلی میں بھی 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کی تجویز پارلیمنٹ کے زیر غور ہے۔










