یورپی یونین نے روس کی ریاستی سرپرستی میں چلنے والی میسجنگ ایپ میکس کی درپردہ مالک کمپنی وی کے اور اس کی ذیلی کمپنی کمیونیکیشن پلیٹ فارم پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ اس ایپ کو روس میں اختلافی آوازوں کو دبانے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کے مطابق میکس ایپ روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کی نگرانی میں چلائی جاتی ہے اور روس میں فروخت ہونے والے بیشتر موبائل فونز میں پہلے سے انسٹال ہوتی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ایپ میں وسیع پیمانے پر نگرانی کی صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں یوکرین جنگ پر تنقید کرنے یا حکومت مخالف مواد شیئر کرنے والے صارفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔
روس گزشتہ کئی ماہ سے شہریوں کو میکس استعمال کرنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس ایپ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود نہیں، جس سے صارفین کی سرگرمیوں کی نگرانی آسان ہو جاتی ہے۔ روسی حکومت نے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کی رفتار بھی محدود کر دی ہے اور سرکاری ملازمین، ریاستی اداروں، اسکولوں اور سرکاری کمپنیوں کو اپنی سرکاری گفتگو میکس پر منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
میکس کو چین کی معروف سپر ایپ وی چیٹ کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جس میں پیغام رسانی، سوشل میڈیا، سرکاری خدمات، ڈیجیٹل شناخت، بینکاری اور ادائیگیوں سمیت متعدد سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس ایپ کو روس کی ٹیکنالوجیکل خودمختاری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اسے زیادہ محفوظ پلیٹ فارم کہا ہے۔ تاہم یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن اس سے قبل روس پر الزام عائد کر چکی ہیں کہ کریملن ایک ڈیجیٹل آہنی پردہ کھڑا کر کے عوام کو یوکرین جنگ اور اس کے معاشی اثرات سے متعلق حقائق سے دور رکھنا چاہتا ہے۔
یورپی یونین روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے مختلف شعبوں میں متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن میں تازہ پابندیاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔










