اہم ترین

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز سے سیکیورٹی فیس لینے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور اب آبنائے ہرمز کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم عالمی بحری راستے سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر سیکیورٹی اخراجات کے طور پر 20 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور کھلی رہے گی، چاہے ایران اس سے متفق ہو یا نہ ہو۔بحال کی جانے والی ناکہ بندی صرف ایرانی جہازوں اور ایران سے تجارت کرنے والے صارفین تک محدود ہوگی، جبکہ دیگر تمام ممالک کو اس راستے سے آزادانہ آمدورفت کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب گارڈین آف دی ہرمز اسٹریٹ (آبنائے ہرمز کا محافظ)کے نام سے جانا جائے گا اور اس حساس بحری گزرگاہ کی حفاظت کے تمام اخراجات عالمی تجارتی جہازوں سے وصول کیے جائیں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران کے درمیان شدید نوعیت کے حملے دیکھنے میں آئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے اور عالمی بحری تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ادھر ایران کی فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔ ایرانی حکام نے خلیجی ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تعاون سے گریز کریں۔

امریکی فوج کے مطابق پیر کے روز ایران کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جواباً بحرین، اردن، کویت اور عمان میں امریکی مفادات پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ قطر، پاکستان اور عمان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں تاکہ جنگ میں مزید شدت آنے سے روکا جا سکے۔

پاکستان