انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم نے اپنے دورِ کوچنگ کے مایوس کن اختتام پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں رہے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ کسی اور کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔
نیوزی لینڈ کے سابق کپتان میک کولم، جو 2022 سے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے، کو حالیہ خراب کارکردگی کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ وہ انگلینڈ کی محدود اوورز کی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں بدستور انجام دیتے رہیں گے۔
برمنگھم میں بھارت کے خلاف پہلے ایک روزہ میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میک کولم نے کہا، “مجھے بتایا گیا کہ میری خدمات اب ٹیسٹ ٹیم کے لیے درکار نہیں ہیں۔ میں مایوس ضرور ہوں، لیکن اس فیصلے کا مکمل احترام کرتا ہوں۔ کرکٹ نتائج کا کھیل ہے اور ہمارے نتائج اتنے اچھے نہیں تھے۔ اب وقت ہے کہ کسی اور کو موقع دیا جائے۔”
انہوں نے اعتراف کیا کہ کوچنگ کے دوران ہر فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا اور بطور ہیڈ کوچ وہ ٹیم کی کارکردگی، حکمت عملی اور ماحول کے مکمل ذمہ دار تھے۔
میک کولم کے دور کے اختتام سے قبل انگلینڈ کو اپنے ہی میدان پر نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 2-1 سے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے بھی ریڈ بال کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
اس سے قبل آسٹریلیا میں ایشز سیریز میں 4-1 کی شکست اور بھارت و آسٹریلیا کے خلاف بڑی ٹیسٹ سیریز میں ناکامیوں نے بھی ان کی پوزیشن کمزور کر دی تھی۔
برینڈن میک کولم نے کہا کہ اگر نتائج نہ آئیں تو قیادت تبدیل ہونا فطری عمل ہے۔ میں گزشتہ دو دہائیوں سے کرکٹ سے وابستہ ہوں اور جانتا ہوں کہ جب نتائج نہیں ملتے تو کسی اور کو موقع دینا پڑتا ہے۔ میں اس حقیقت کو قبول کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ہماری کارکردگی اچھی نہیں تھی۔










