اہم ترین

موسمیاتی تبدیلی بزرگوں کے لیے بڑا خطرہ بن گئی

ایک امریکی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت بزرگ افراد کی صحت کے لیے پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے مطابق سابقہ مطالعات میں شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کا اندازہ زیادہ تر صحت مند نوجوان افراد پر کیے گئے تجربات کی بنیاد پر لگایا گیا، جس میں عمر رسیدہ افراد کے اضافی خطرات کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا گیا۔

محققین نے بتایا کہ بزرگ افراد کم پسینہ خارج کرتے ہیں، ان کا دل نسبتاً کم مضبوط ہوسکتا ہے اور انہیں پہلے سے مختلف طبی مسائل بھی لاحق ہوتے ہیں، جس کے باعث شدید گرمی ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ جاتا ہے تو دنیا بھر میں 60 سال سے زائد عمر کے تقریباً 22 فیصد افراد ہر سال کم از کم ایک ماہ تک غیر محفوظ گرمی کا سامنا کرسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں ہر اضافی ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے نتیجے میں تقریباً ایک ارب مزید افراد ایسی گرمی اور نمی کا سامنا کرسکتے ہیں جو انسانی جسم کی برداشت سے باہر ہو۔

اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا تو جنوبی ایشیا اور خلیجی خطے کے شدید متاثرہ علاقوں میں بزرگ افراد سال کے تین ماہ تک دن رات خطرناک گرمی کی زد میں رہ سکتے ہیں۔

تحقیق میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، میانمار اور نائجر کو ان ممالک میں شمار کیا گیا ہے جہاں غربت کی بلند شرح اور ٹھنڈک کی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث خطرہ زیادہ ہے۔

محققین نے خبردار کیا کہ ناقابل برداشت گرمی مستقبل میں اندرونِ ملک نقل مکانی اور بین الاقوامی موسمیاتی ہجرت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

تحقیق میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ شدید گرمی سے نمٹنے کے منصوبوں میں بزرگ افراد کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق گرمی سے ہونے والی بیشتر اموات گھروں کے اندر واقع ہوتی ہیں، اس لیے ایئر کنڈیشننگ اور دیگر ٹھنڈک کی سہولیات تک وسیع تر رسائی انتہائی اہم ہے۔

پاکستان