عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے امریکی پابندیوں کو عدالت کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دے دیا ہے۔
امریکا نے آئی سی سی کی صدر اور جاپانی جج توموکو اکانے اور سینیئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ججز، پراسیکیوٹرز اور عملے کو نشانہ بنانے والی پابندیاں قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔
جاپان نے امریکی پابندیوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ آئی سی سی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ عدالت کے میزبان ملک نیدرلینڈز نے بھی پابندیوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئی سی سی کو بدعنوان اور حد سے زیادہ سیاسی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ایسے ممالک کے حکام کے خلاف کارروائی کی کوشش کی جنہوں نے آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔
امریکا کی جانب سے آئی سی سی حکام کے خلاف پابندیوں کی ایک بڑی وجہ عدالت کی اسرائیل سے متعلق تحقیقات ہیں۔ آئی سی سی نے 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا تھا۔
آئی سی سی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف 2023 میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد ماسکو نے بھی آئی سی سی کے بعض حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔











