اہم ترین

قومی ٹیسٹ کوچنگ اسٹاف میں پھر اکھاڑ پچھاڑ : سرفراز اور عمر گل کی چھٹی کا فیصلہ

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی مسلسل مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ ٹیم کے کوچنگ سیٹ اپ میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ٹیسٹ ٹیم کی موجودہ ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں کوچز تیسرے ٹیسٹ تک ٹیم کے ساتھ رہیں گے، تاہم وطن واپسی پر ان کی ذمہ داریاں ختم ہوجائیں گی۔

یہ فیصلہ لندن میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والی اہم میٹنگ میں کیا گیا، جہاں قومی ٹیسٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی، کوچنگ سیٹ اپ اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کیا ہے، جس کے بعد ٹیم کی کارکردگی پر سوالات بڑھ گئے ہیں۔ بالخصوص بیٹنگ، فیلڈنگ اور مجموعی ٹیم کمبی نیشن کے حوالے سے مسلسل تنقید کے بعد بورڈ نے کوچنگ نظام میں فوری تبدیلی کا راستہ اختیار کیا ہے۔

مائیک ہیسن کو عبوری کمان مل گئی

برمنگھم میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں مائیک ہیسن کوچز کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ان کو اس وقت قومی ٹیم کے مجموعی کوچنگ ڈھانچے میں اہم حیثیت حاصل ہے اور اب ٹیسٹ ٹیم کی براہ راست نگرانی بھی ان کے سپرد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے بعد سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی ہوم ٹیسٹ سیریز میں بھی مائیک ہیسن ہی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

یوں پی سی بی نے ٹیسٹ ٹیم کے لیے فوری طور پر کسی نئے غیر ملکی یا مستقل کوچ کی تلاش کے بجائے موجودہ کوچنگ سیٹ اپ میں ہی ذمہ داریوں کی ازسرنو تقسیم کا راستہ اختیار کیا ہے۔

عمر گل کا دور بھی ختم

بولنگ کوچ عمر گل کی رخصتی بھی اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔ بورڈ نے انہیں بھی موجودہ ذمہ داریوں سے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پاکستانی بولنگ اٹیک نے بعض مواقع پر اچھی کارکردگی دکھائی، تاہم ٹیم کے مجموعی نتائج بہتر نہ ہوسکے۔ لارڈز ٹیسٹ میں محمد عباس کی شاندار کارکردگی کے باوجود پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد کوچنگ اور ٹیم کی تیاریوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

فیصلہ کیوں اہم ہے؟

سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ سے الگ کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ عرصے میں ٹیم کو مسلسل شکستوں کا سامنا رہا ہے اور انگلینڈ کے خلاف موجودہ سیریز میں بھی قومی ٹیم دو ٹیسٹ میچز ہار کر سیریز گنوا چکی ہے۔

پی سی بی اب فوری طور پر ایسے کوچنگ انتظام کی طرف بڑھ رہا ہے جو ٹیم کو آئندہ ہوم سیریز کے لیے دوبارہ منظم کرسکے۔

مائیک ہیسن کے لیے سب سے بڑا چیلنج نوجوان اور غیر مستحکم ٹیسٹ اسکواڈ کو ایک واضح سمت دینا ہوگا۔ ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی، بیٹنگ کی غیر مستقل کارکردگی اور فیلڈنگ کی خامیاں پہلے ہی قومی ٹیم کے مسائل میں شمار ہورہی ہیں۔

کوچنگ سے زیادہ، مکمل ری سیٹ؟

سرفراز احمد اور عمر گل کی رخصتی بظاہر صرف دو کوچز کی تبدیلی ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ فیصلہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں وسیع تر تبدیلیوں کا آغاز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

بورڈ کی لندن میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں سے واضح ہے کہ محض کھلاڑیوں کی تبدیلی کے بجائے کوچنگ ڈھانچے کو بھی نتائج کے لیے جواب دہ بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مائیک ہیسن کی نگرانی میں برمنگھم ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور آیا کوچنگ سیٹ اپ میں تبدیلی پاکستان کے مسلسل شکستوں کے سلسلے کو توڑنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

پاکستان