ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اگلے سال (2027)کے اختتام تک مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل دنیا میں انسانوں سے کہیں آگے نکل سکتی ہے ۔
ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2027 کے اختتام تک اے آئی ڈیجیٹل دنیا میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سپر ہیومن یعنی مافوق البشر سطح کی صلاحیت حاصل کرسکتی ہے، تاہم یہ برتری بنیادی طور پر ڈیجیٹل کاموں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
مسک نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں کیا۔ ان کے مطابق آنے والے سال کے آخر تک اے آئی ایسا کوئی بھی ڈیجیٹل کام کرنے کے قابل ہوسکتی ہے جس میں اس وقت انسانی ذہانت اور مہارت درکار ہوتی ہے، بلکہ بعض شعبوں میں وہ انسانوں سے کہیں بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
تاہم مسک نے اس دعوے کے ساتھ ایک اہم وضاحت بھی کی ہے۔ ان کے خیال میں اے آئی کی یہ ’’سپر ہیومن‘‘ صلاحیت بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگی۔ یعنی ایسا کام جس میں حقیقی دنیا میں جسمانی طور پر کسی چیز کو بنانا، منتقل کرنا یا تبدیل کرنا شامل ہو، اس میں اے آئی فوری طور پر انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے، یہ ضروری نہیں۔
اے آئی کن شعبوں میں آگے نکل سکتی ہے؟
ایلون مسک کے دعوے کو موجودہ اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو اے آئی نہ صرف سوالات کے جواب دینے یا معلومات فراہم کرنے تک محدود رہے گی بلکہ پیچیدہ ڈیجیٹل کام خود انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔
ممکنہ طور پر اے آئی خود پیچیدہ کوڈ لکھ کر سافٹ ویئر تیار کرسکے گی۔بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا انتہائی تیزی سے تجزیہ کرسکے گی۔مشکل اور کئی مراحل پر مشتمل ڈیجیٹل کام خود مکمل کرسکے گی۔ سائبر سیکیورٹی میں موجود کمزوریاں تلاش کرسکے گی۔
اس کے علاوہ 2027 میں مختلف اے آئی ایجنٹس کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔اور ایسے سسٹمز کی نشاندہی کرسکے گی جن میں سیکیورٹی خامیاں موجود ہوں۔
مسک کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق ان کی صلاحیتوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ گیلرمو راؤچ نے ایک سیکیورٹی خامی کے معاملے کو اوپن اے آئی اور ہگنگ فیس کی ان رپورٹس سے جوڑا جن میں اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ’’زیرو ڈے‘‘ نوعیت کی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا تھا۔
تاہم یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ زیر بحث سیکیورٹی خامی دراصل اے آئی ایجنٹس ہی نے دریافت کی تھی۔ اس لیے اس معاملے کو اے آئی کی خودکار ہیکنگ صلاحیت کا حتمی ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اے آئی ایجنٹس کی باہمی سرگرمیوں سے متعلق اوپن اے آئی کی ایک حالیہ سیکیورٹی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تقریباً 1200 اے آئی ایجنٹس نے اندرونی آرٹیفیکٹری سروس کو پیغامات اور فائلوں کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔
ان ایجنٹس کے درمیان 70 ہزار سے زائد پیغامات اور فائلیں شیئر ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعد ازاں تقریباً 700 ایجنٹس نے ہگنگ فیس سے متعلق نظام کو ہدف بنایا۔
اس صورتحال نے ماہرین کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر اے آئی ایجنٹس مستقبل میں نہ صرف معلومات کا تبادلہ کرنے بلکہ آزادانہ طور پر اہداف منتخب کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کے قابل ہوگئے تو سائبر سیکیورٹی کا منظرنامہ کس حد تک تبدیل ہوسکتا ہے۔
اے آئی خود کمزوری تلاش کرے گی
اے آئی ایجنٹس کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ایک خدشہ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ مستقبل کے خودکار نظام سائبر سسٹمز میں موجود کمزوریوں کو انسان کی ہدایت کے بغیر تلاش کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ اس کے غلط استعمال اور سیکیورٹی خطرات پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔ مسک نے اسی تناظر میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ایک پرانے انتباہ کا حوالہ بھی دیا، جس میں اے آئی کے انتہائی طاقتور ہونے کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
مافوق البشر، مگر صرف ڈیجیٹل دنیا میں؟
ایلون مسک کی پیش گوئی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ 2027 تک اے آئی کو مکمل طور پر انسان سے برتر قرار نہیں دے رہے۔ ان کے مطابق اے آئی کی سپر ہیومن صلاحیت بنیادی طور پر ڈیجیٹل کاموں میں سامنے آسکتی ہے۔ چنانچہ کمپیوٹر پر ہونے والے کام، پروگرامنگ، ڈیٹا کا تجزیہ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور پیچیدہ ڈیجیٹل مسائل حل کرنے میں اے آئی انسانوں سے آگے نکل سکتی ہے، لیکن حقیقی دنیا میں جسمانی کام انجام دینے کے لیے روبوٹکس اور دیگر ٹیکنالوجیز کی ضرورت بدستور موجود رہے گی۔
یہ بھی واضح رہے کہ 2027 کی یہ کوئی سائنسی طور پر ثابت شدہ پیش گوئی نہیں بلکہ ایلون مسک کا اندازہ اور دعویٰ ہے۔ اے آئی کی رفتارِ ترقی اگرچہ غیر معمولی ہے، لیکن یہ طے کرنا مشکل ہے کہ وہ کب اور کس حد تک انسانی صلاحیتوں کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑے گی۔











