اہم ترین

نائجیریا میں خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے کا قانون ختم کرنے کی تیاری

نائجیریا کی حکومت نے خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے والے پرانے قوانین ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکام کے مطابق قانون میں تبدیلی کا مقصد خودکشی کی کوشش کرنے والے افراد کو سزا دینے کے بجائے علاج اور مدد تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

وزیر صحت محمد علی پیٹ کے مطابق نائجیریا میں سالانہ تقریباً 3 لاکھ افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کم از کم 7 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خودکشی کی کوشش کو جرم تصور کرنا درست نہیں اور حکومت اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قانون سازی کے لیے بل پیش کرے گی۔

ذہنی صحت کے ماہرین کے مطابق خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے سے متاثرہ افراد علاج کے لیے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں گرفتاری اور مقدمے کا خوف ہوتا ہے۔

نائجیریا کی 36 ریاستوں میں خودکشی کی کوشش پر عموماً ایک سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ مسلم اکثریتی ریاست جیگاوا میں شرعی قوانین کے تحت سزا پانچ سال تک ہوسکتی ہے۔ ماہرین قانون کو پورے ملک میں یکساں بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قانون تبدیل کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ذہنی صحت کی سہولیات میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ضروری ہے۔ نائجیریا میں 20 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے ایک ہزار سے بھی کم ماہر نفسیات موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق ذہنی صحت سے متعلق بدنامی اور علاج کی محدود سہولیات بھی بڑا مسئلہ ہیں۔ غربت، معاشی مشکلات، عدم تحفظ اور سماجی تنہائی خودکشی کے رجحان کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں۔

نائجیریا کی قومی اسمبلی میں 2024 میں خودکشی سے متعلق رویوں کے شکار افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بل بھی پیش کیا گیا تھا، تاہم وہ تاحال منظور نہیں ہوسکا۔

خودکشی سے بچاؤ کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سازی کا ایک حصہ سزا کا خاتمہ جبکہ دوسرا متاثرہ افراد کے لیے ضروری مدد اور علاج کا نظام قائم کرنا ہے۔

پاکستان