امریکی فوج نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو مزید وسعت دیتے ہوئے اپنے ملٹری اے آئی پلیٹ فارم جین اے آئی ڈاٹ ایم آئی ایل پر چیٹ جی پی ٹی اور گروک کو بھی شامل کرلیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق گروک فار گورنمنٹ اور چیٹ جی پی ٹی مل دونوں کو آئی ایل 5 سطح پر استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔
اس منظوری کے بعد دونوں اے آئی سسٹمز کو کنٹرولڈ غیر خفیہ معلومات، یعنی سی یو آئی سے متعلق کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ تاہم یہ ٹولز کلاسیفائیڈ معلومات رکھنے والے سسٹمز سے الگ رہیں گے۔
امریکی محکمہ دفاع نے 31 اگست کو اعلان کیا کہ ایلون مسک کی کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ گروک فار گورنمنٹ اب جین اے آئی ڈاٹ ایم آئی ایل پر دستیاب ہے۔
گروک میں جدید ریجننگ، مختلف ریجننگ موڈز اور دوبارہ استعمال کیے جانے والے ورک فلو تیار کرنے جیسی سہولیات شامل ہیں۔ دوسری جانب چیٹ جی پی ٹی مل کو بھی اسی پلیٹ فارم پر لانچ کردیا گیا ہے۔
امریکی فوجی اور سول ملازمین ان اے آئی ٹولز کو مارکیٹ ریسرچ، خریداری کے معاملات اور سپلائی چین مینجمنٹ سمیت مختلف دفتری اور مشن سے متعلق کاموں میں استعمال کرسکیں گے۔
محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے ملازمین معلومات کا تجزیہ زیادہ تیزی سے کرسکیں گے، ورک فلو بہتر انداز میں منظم ہوگا اور فیصلہ سازی میں بھی مدد ملے گی۔
امریکی فوج کا مقصد مصنوعی ذہانت کو فورس ملٹی پلائر کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ یعنی اے آئی کو فوجی اہلکاروں کی جگہ لینے کے بجائے ان کی صلاحیت اور کام کی رفتار بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔جین اے آئی ڈاٹ ایم آئی ایل پلیٹ فارم کو شروع ہوئے ابھی تقریباً نو ماہ ہی ہوئے ہیں، لیکن اس دوران اسے تیزی سے وسعت دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 30 لاکھ سے زائد فوجی اور سول ملازمین پر مشتمل ورک فورس میں سے 17 لاکھ سے زائد منفرد صارفین اب تک جین اے آئی ڈاٹ ایم آئی ایل استعمال کرچکے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی اور گروک کی شمولیت کے ساتھ امریکی فوج میں جدید کمرشل اے آئی ماڈلز کے استعمال کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی دفاعی ادارے روزمرہ انتظامی کاموں سے لے کر معلومات کے تجزیے اور فیصلہ سازی تک مصنوعی ذہانت کو اپنے نظام کا اہم حصہ بنانے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔











