اٹلی کی خاتون وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت جنگِ عظیم دوم کے بعد اپنے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والی حکومت بن جائے گی۔ 4 ستمبر کو میلونی کی حکومت کے اقتدار میں رہنے کے دنوں کی تعداد 1,413 ہو جائے گی، جو سابق وزیر اعظم سلوِیو برلسکونی کے ایک دورِ حکومت سے ایک دن زیادہ ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اٹلی میں گزشتہ 80 برس کے دوران تقریباً 70 حکومتیں بننے کے باعث سیاسی عدم استحکام کی طویل تاریخ رہی ہے۔ ایسے میں میلونی حکومت کی طویل مدت کو ان کی جماعت برادرز آف اٹلی کے لیے ایک اہم سیاسی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ریکارڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2027 کے متوقع عام انتخابات سے قبل حکومت کو کئی سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
میلونی کی جماعت اب بھی رائے عامہ کے جائزوں میں سرفہرست ہے، جس سے بظاہر ان کی 2022 کی انتخابی کامیابی دہرانے کی امید پیدا ہوتی ہے۔ تاہم حالیہ واقعات نے ان کی دوبارہ کامیابی کا راستہ آسان نہیں رہنے دیا۔
رواں سال عدالتی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم میں حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے ظاہر کیا کہ موجودہ حکومتی اتحاد کے مقابلے میں ووٹرز کے درمیان ایک متبادل اکثریت بھی موجود ہو سکتی ہے۔
حکومت کو اپنے تین اہم انتخابی وعدوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے، جن میں وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ اور علاقائی خودمختاری سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں مضبوط اکثریت کے باوجود حکومت اٹلی کے بنیادی معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکی۔
اٹلی کی معیشت 2026 میں محض 0.6 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جبکہ حقیقی اجرتیں 1990 کی دہائی کے اوائل سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ بے روزگاری گزشتہ چار برس میں 7 فیصد سے زائد سے کم ہو کر تقریباً 5 فیصد تک ضرور آئی ہے، لیکن کام کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود روزگار کی تلاش نہ کرنے والے افراد کی تعداد اب بھی خاصی زیادہ ہے۔
ماہرین حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے اپنی بقا کو ترجیح دی اور بنیادی اصلاحات کے بجائے محدود اقدامات کیے۔ دوسری جانب حکومتی حامیوں کا مؤقف ہے کہ میلونی حکومت نے ٹیکسوں میں کمی، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے بھاری قرضوں کے شکار ملک کی معیشت کو بہتر سمت دی ہے۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر حکومت اپنی کامیابیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ حکومتی ارکان کے مطابق اٹلی نے یورپی سیاست میں زیادہ مرکزی کردار حاصل کیا ہے، جبکہ امیگریشن اور توانائی سمیت متعدد معاملات میں روم کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
تاہم سیاسی طور پر میلونی کے اتحاد کو سابق جنرل روبرتو واناکی کی نئی جماعت فوتورو نازیونالے سے خطرہ لاحق ہے۔ یہ جماعت امیگریشن اور ہم جنس پرستی جیسے معاملات پر سخت گیر مؤقف رکھتی ہے اور تقریباً 7 فیصد عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو 2027 کے انتخابات میں واناکی ایک اہم سیاسی کردار یا کنگ میکر بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اختلافات اور ووٹرز کی بڑھتی ہوئی عدم دلچسپی حکمران اتحاد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ 2022 کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 64 فیصد رہا تھا، جبکہ 2024 کے یورپی انتخابات میں یہ شرح 50 فیصد سے بھی نیچے چلی گئی۔
روم کے ایک پسماندہ علاقے تور بیلا موناچا میں بھی عوامی مایوسی نمایاں دکھائی دیتی ہے، جہاں میلونی کی جماعت کی حکومت ہے اور ووٹنگ کی شرح ملک کے کم ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے اٹلی کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں، جبکہ حکومت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اصلاحات کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مہنگائی اور معیارِ زندگی، کمزور ہوتا سرکاری صحت کا نظام، سکیورٹی اور امیگریشن 2027 کے انتخابات میں اہم عوامی مسائل بن سکتے ہیں۔ یوں میلونی حکومت کا تاریخی طور پر طویل عرصہ اقتدار میں رہنا بلاشبہ ایک سیاسی کامیابی ہے، لیکن اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اس ریکارڈ کو دوبارہ عوامی مینڈیٹ میں تبدیل کرنا ان کے لیے اصل امتحان ہوگا۔











