اہم ترین

افغان طالبان نےہر قسم کے احتجاج پر پابندی کو شریعت کے مطابق قرار دے دیا

افغان طالبان حکومت نے ملک میں ہر قسم کے احتجاج پر عائد پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے اسلامی قانون کے مطابق قرار دیا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کو کہا کہ احتجاج کی ممانعت سے متعلق نیا قانون مکمل طور پر اسلامی شریعت سے مطابقت رکھتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے پانچ سال سے زائد عرصہ قبل دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عوامی مظاہرے پہلے ہی انتہائی کم ہو چکے ہیں، تاہم گزشتہ ماہ حکومت نے ایک نیا ضابطہ نافذ کیا جس کے تحت ’’ہر قسم کے احتجاج‘‘ پر پابندی عائد کردی گئی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظام میں احتجاج کا تصور موجود نہیں۔ ان کے مطابق ایسے مظاہرے ان معاشروں میں ہوتے ہیں جہاں جمہوریت یا جمہوریہ جیسے مختلف سیاسی و قانونی نظام رائج ہوں۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظام میں شہری اپنے مسائل اور شکایات حکومت تک براہِ راست پہنچا سکتے ہیں اور اس کے لیے احتجاج یا مظاہروں کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پابندی سے لوگوں کا وقت ضائع ہونے سے بھی بچایا جا سکے گا اور نجی املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہوگا۔

تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے طالبان حکومت کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے احتجاج پر پابندی کو طالبان کی جانب سے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششوں میں ایک اور سخت قدم قرار دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی افغانستان میں قانون کے نفاذ سے متعلق طالبان کی وسیع تر تبدیلیوں کو انسانی حقوق پر ایک اور بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے احتجاج پر پابندی کو ان اقدامات کی انتہائی سنگین شقوں میں شامل کیا ہے۔

اگرچہ افغانستان میں مظاہرے کم ہی ہوتے ہیں، لیکن اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق جون میں مغربی شہر ہرات میں خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والے احتجاج پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان