دنیا کے قدیم ترین فلمی میلوں میں شمار ہونے والے وینس فلم فیسٹیول کا آغاز اٹلی کے خوبصورت جزیرے لِڈو میں ہالی ووڈ کے معروف اداکار جارج کلونی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ہو گیا۔ 65 سالہ کلونی کو افتتاحی شب لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
کلونی وینس فلم فیسٹیول کے مستقل اور مقبول ریڈ کارپٹ ستاروں میں شامل ہیں۔ ان کی موجودگی ایسے وقت میں فیسٹیول کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جب اس سال ہالی ووڈ کے بڑے اسٹوڈیوز کی متعدد فلمیں وینس سے دور ہیں۔
12 ستمبر تک جاری رہنے والے فیسٹیول میں بڑے تجارتی بلاک بسٹرز کی کمی کے باوجود سیاسی، سماجی اور عالمی شخصیات پر بننے والی کئی اہم فلمیں شامل ہیں۔ ان میں ایلون مسک، روپرٹ مرڈوک اور برطانوی میوزک بینڈ اویسس کے متنازع اور طویل عرصے سے اختلافات کا شکار گالاگر بھائیوں سے متعلق فلمیں بھی شامل ہیں۔
فیسٹیول کا افتتاح ’’اِنک‘‘ سے ہوگا، جو برطانوی میڈیا کے طاقتور شخصیت روپرٹ مرڈوک کے عروج اور اقتدار کی کہانی بیان کرتی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری ’’ٹرین اسپاٹنگ‘‘ کے معروف ڈائریکٹر ڈینی بوائل نے کی ہے۔
مرکزی مقابلے میں آزاد اور آرٹ ہاؤس فلموں کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ مقابلے میں شامل واحد دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس فلم کے اسرائیلی ہدایت کار یووال ابراہم اور ریچل شور 2024 کی آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’’نو ادر لینڈ‘‘ کے لیے بھی معروف ہیں، جس میں مغربی کنارے میں ایک فلسطینی آبادی کی بے دخلی کو دکھایا گیا تھا۔
دیگر نمایاں فلموں میں مارٹن مک ڈونا کی ’’وائلڈ ہارس نائن‘‘ شامل ہے، جس میں جان مالکووچ اور سیم راک ویل غیر معمولی سی آئی اے ایجنٹس کے کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلوریان زیلر کی نفسیاتی تھرلر ’’بنکر‘‘ میں حقیقی زندگی کی جوڑی پینی لوپ کروز اور جیویر باردم ایک ساتھ نظر آئیں گے۔
روسی ہدایت کار الیّا خرژانوفسکی کا کئی برسوں پر محیط منصوبہ ’’ڈاو‘‘ بھی فیسٹیول میں توجہ کا مرکز ہے۔ یوکرینی حکومت نے اس منصوبے پر روسی ریاست اور اس کے اثر و رسوخ کے نیٹ ورکس سے مبینہ تعلق کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم ہدایت کار نے الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جنگ کے خلاف احتجاجاً روسی شہریت ترک کردی تھی۔
گولڈن لائن ایوارڈ کے لیے مقابلہ کرنے والی دیگر فلموں میں وینس کے پرانے شناسا ہدایت کار ورنر ہرزوگ کی ’’بکنگ فاسٹارڈ‘‘ بھی شامل ہے، جس میں کیٹ مارا اور رونی مارا بہنیں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ امریکی ہدایت کار لانس اوپن ہائم کی فلم ’’پرائم ٹائم‘‘ بھی مقابلے کا حصہ ہے، جس میں جرائم پکڑنے والے ایک ریئلٹی ٹی وی شو کی کہانی پیش کی گئی ہے اور رابرٹ پیٹنسن بھی شامل ہیں۔
ہالی ووڈ کی غیر موجودگی
اس سال وینس فیسٹیول میں ہالی ووڈ کی بڑی فلموں کی کمی نمایاں ہے۔ حالیہ برسوں میں وینس میں کئی بڑی فلموں کے عالمی پریمیئر ہوئے تھے، جن میں سے متعدد بعد میں آسکر ایوارڈز تک پہنچیں۔ تاہم اخراجات اور تجارتی خطرات کم کرنے کی کوشش میں بڑے اسٹوڈیوز اپنی فلموں کے پریمیئر خود منعقد کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس صورتحال میں ایک نمایاں استثنیٰ ڈزنی کی تیار کردہ دستاویزی فلم ’’ڈونٹ لُک بیک اِن اینگر‘‘ ہے، جو گزشتہ سال اویسیس کے واپسی دورے اور طویل عرصے سے ایک دوسرے سے ناراض بھائیوں لیام اور نول گالاگر کی دوبارہ قربت پر مبنی ہے۔ منتظمین کے مطابق دونوں بھائی ہفتے کو فلم کے پریمیئر کے لیے ریڈ کارپٹ پر موجود ہوں گے۔
دوسری جانب ارب پتی ایلون مسک ممکنہ طور پر اپنی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم کی وینس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی دستاویزی فلم ساز الیکس گِبنی کی چار گھنٹے طویل فلم میں مسک کی شخصیت اور اثر و رسوخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مسک نے فلم کو اپنے خلاف ’’ہٹ پیس‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ گِبنی اسے کاروباری شخصیت کی زندگی اور طاقت کا غیرمبہم جائزہ قرار دیتے ہیں۔
غزہ اور جنگ کا موضوع بھی نمایاں
اس سال وینس فیسٹیول میں جنگ اور عالمی سیاست بھی اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ اطالوی فلم ’’دی ایکو چیمبر‘‘ میں اداکارہ سوزن سارینڈن بھی نظر آئیں گی۔ سارینڈن نے رواں برس بتایا تھا کہ فلسطین کے حق میں ایک ریلی میں شرکت کے بعد انہیں اپنی ہالی ووڈ ٹیلنٹ ایجنسی سے علیحدہ کردیا گیا تھا۔
یہ بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا غزہ کی جنگ گزشتہ سال کی طرح اس فیسٹیول کا مرکزی سیاسی موضوع بنے گی یا نہیں۔ 2025 میں فلسطینی بچی ہند رجب کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت پر بننے والی فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کو 23 منٹ کی اسٹینڈنگ اوویشن ملی تھی اور اس نے گرینڈ جیوری کا دوسرا بڑا انعام جیتا تھا۔
فیسٹیول کے آرٹسٹک ڈائریکٹر البرٹو باربیرا نے کہا ہے کہ غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر فلم کے ذریعے گفتگو ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس سال کم از کم چار فلمیں فلسطینی مسئلے اور ایران کی موجودہ صورتحال سے متعلق ہیں، جس سے فیسٹیول کے مؤقف کی سمت واضح ہوتی ہے۔











