سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں بحرالکاہل کے جزائر کو خوراک کی قلت اور پینے کے پانی کے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے کئی جزائر میں انسانی زندگی مزید مشکل ہوجائے گی۔
یہ انتباہ پلاؤ میں بحرالکاہل کے رہنماؤں کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں درجہ حرارت میں تقریباً 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی جانب بڑھ رہی ہے، جو پیرس معاہدے کے تحت مقرر کردہ 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز ہوگا۔
سائنس دانوں کے مطابق اس حد سے تجاوز کا بحرالکاہل کے جزائر پر براہِ راست معاشی اور غذائی اثر پڑے گا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ خطے کو ماہی گیری کے لائسنس کی فیس میں تقریباً 90 ملین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے، جو بحرالکاہل کے جزائر کی حکومتوں کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 13 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین نے اسے خطے کے لیے معاشی بحران کا سبب قرار دیا ہے۔
بحرالکاہل کمیونٹی کے نائب ڈائریکٹر جنرل اینڈریو جونز کے مطابق سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ٹونا مچھلی مشرق کی جانب منتقل ہوجائے گی۔ اس تبدیلی سے وہ جزائر متاثر ہوں گے جہاں دنیا کی تقریباً ایک تہائی ٹونا مچھلی پکڑی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے مقامی ماہی گیروں کی پکڑ میں تقریباً 65 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر خاندان کی خوراک سے ہفتے میں تقریباً دو کھانے جتنی صحت بخش اور مفت پروٹین کم ہوجائے گی، جسے متبادل خوراک سے پورا کرنا پڑے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں تباہ کن سیلابوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ سمندری پانی زیرِ زمین اور میٹھے پانی کے ذخائر میں داخل ہوکر پینے کے پانی کو آلودہ کرسکتا ہے۔ اس سے کم سطح پر واقع جزائر میں انسانی آبادی کے لیے مستقل رہائش مزید مشکل ہوجائے گی۔
کم رقبے والے جزیرہ ملک ٹووالو کی موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مینہ ٹالیا نے کہا کہ سائنسی شواہد واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی بحران کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ’’ابھی حقیقی ہے اور ہمارے درمیان موجود ہے‘‘۔
بحرالکاہل کے جزائر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانے اور پانی و خوراک کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک سے مالی امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ فوسل فیول کے استعمال میں تیزی سے کمی لانے پر بھی زور دے رہے ہیں۔
مارشل آئی لینڈز کی موسمیاتی نمائندہ ٹینا اسٹیج نے کہا کہ بحرالکاہل کے ممالک ایک انتہائی مضبوط دھارے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں جو انہیں خطرناک صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ان کے بقول دنیا کو درجہ حرارت میں اضافے کو دوبارہ 1.5 ڈگری کی حد تک رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔
وانواتو کے موسمیاتی تبدیلی کے وزیر رالف ریگینوانو نے آسٹریلیا پر بھی تنقید کی، جو خطے کا سب سے بڑا ملک اور کوئلے و گیس کا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوسل فیول کی برآمدات میں توسیع کا سلسلہ روکے۔
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے جواب میں کہا کہ ملک کی توانائی کی منتقلی ایک رات میں نہیں ہوسکتی، تاہم قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے دوران گیس کا بھی کردار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ’’ہم سب کو مزید کام کرنا ہوگا‘‘۔











