سینئر اداکارہ فریال گوہر کے ایک حالیہ انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے، جس میں انہوں نے اپنی سابق ازدواجی زندگی کے دوران پیش آنے والے مبینہ گھریلو تشدد اور پابندیوں کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔
فریال گوہر نے بتایا کہ ان کی شادی 23 برس کی عمر میں ان کی اپنی پسند سے ہوئی تھی، تاہم ازدواجی زندگی کے دوران انہیں مبینہ طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اداکارہ کے مطابق انہیں چمڑے کے بیلٹ سے مارا گیا، ٹھڈے بھی مارے گئے اور تقریباً نو برس تک وہ تشدد برداشت کرتی رہیں۔
اداکارہ نے اپنی زندگی پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ معمول کی سرگرمیوں کے لیے بھی آزاد نہیں تھیں اور واک کے لیے باہر جانے کی اجازت تک نہیں تھی۔ ان کے مطابق ان کا گھر ایک تنگ گلی میں واقع تھا جہاں داخلی راستے پر ٹاٹ کا پردہ لگا ہوتا تھا، جبکہ باہر جانے کے لیے رکشہ گلی کے اندر منگوایا جاتا تھا۔
فریال گوہر نے اپنی ازدواجی زندگی کے دوران حمل ضائع ہونے کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض لوگوں نے انہیں مشورہ دیا کہ اولاد ہونے سے ازدواجی مسائل بہتر ہوسکتے ہیں، تاہم مسلسل تشدد کے ماحول میں یہ ممکن نہیں تھا۔
اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے آخری حمل میں جڑواں بچے تھے جو مبینہ تشدد کے باعث ضائع ہوگئے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر نے معائنے کے دوران جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے اور انہیں مشورہ دیا کہ مزید اولاد کی خواہش سے قبل اپنی شادی کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔ فریال گوہر کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا۔
فریال گوہر کے انٹرویو کے بعد ان کے سابق شوہر اور اداکار جمال شاہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ ایکس پر جاری بیان میں جمال شاہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی انٹرویو میں فریال گوہر کے بارے میں برا نہیں کہا۔
جمال شاہ کے مطابق دونوں کی شادی پانچ برس تک قائم رہی اور وہ باہمی احترام کے ساتھ علیحدہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس رشتے پر کوئی پچھتاوا یا تلخی نہیں اور ان کی دعائیں آج بھی فریال گوہر کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ لوگ حالیہ میڈیا بیانات کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد ہیں، تاہم وہ فریال گوہر کے بارے میں اپنی زبان سے کوئی غلط بات نہیں کہیں گے۔ جمال شاہ نے انٹرویو نشر کرنے والے چینل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔











