نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کہتے ہیں کہ ہماری بلوچ لواحقین سے ہرگز لڑائی نہیں ہے لیکن یہ جو خواہ مخواہ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں ان سے ہمیں مسئلہ ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ احتجاج کا سب کو حق ہے مگر آئین کے اندر رہ کر کرنا چاہیے۔ 98 فیصد بلوچ ہمارے ساتھ ہیں۔ نہ یہ 1971 ہے نہ ہی یہ بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے۔ میرا جھگڑا ذات کا نہیں ریاست کا ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یہ ریاست اور مسلح تنظیموں کے درمیان جھگڑا ہے، بلوچستان میں مسلح تنظیمیں پاکستان کو توڑنے کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی کو جدوجہد کہتے ہیں، یہ مسلح لوگ 3 سے 5 ہزار لوگوں کو مار چکے ہیں۔
نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ میرا پورا پاکستان سے گلہ ہے جنھیں بات ہی ابھی تک سمجھ نہیں آئی ہے، میرا جعلی ہمدردوں سے مسئلہ ہے۔ جو سمجھتے ہیں قتل جائز ہے تو وہ قانون بنا لیں، جس کو دیکھو وہ ہمدرد بنا پھرتا ہے۔ احتجاج کی آڑ میں دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والوں کو قبول نہیں کریں گے، جن لوگوں نے حمایت کرنی ہے وہ ان مسلح تنظیموں کا کیمپ جوائن کریں۔











