اہم ترین

بنی گالہ میں نہیں رہنا جیل جانا ہے: بشریٰ بی بی نے عدالت سے رجوع کر لیا

عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹی فکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے اڈیالہ جیل بھجوانے کی استدعا کردی۔۔

عمران خان کے ساتھ ساتھ بشریٰ بی بی کو بھی اکتیس جنوری کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں اڈیالہ جیل میں رکھنے کے بجائے بنی گالہ کو ہی سب جیل قرار دے کر وہاں رکھا گیا ہے۔۔ اسی دوران انہیں دوران عدت نکاح پر بھی قید سنائی گئی۔

بشری بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی جانب سے ایسی کوئی درخواست جیل حکام کو نہیں دی گئی تھی اور وہ اپنی قید کی مدت جیل میں گزارنے کو تیار ہیں۔وہ خود کو بنی گالہ میں محفوظ نہیں سمجھتیں کیونکہ بنی گالہ جس کو سب جیل قرار دیا گیا ہے، وہاں پر ایسے افراد گھوم رہے ہوتے ہیں جن کو وہ نہیں جانتیں اور ان کی وجہ سے وہ خود کو اس سب جیل میں غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کا ارٹیکل 25 تمام پاکستانیوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور اس طرح کا امتیازی سلوک ان سیاسی کارکنوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے جو عام جیلوں میں رہ رہے ہیں۔

بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت 31 جنوری کا ارڈر جس میں بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیتے ہوئے انھیں (بشری بی بی) کو منتقل کیا گیا تھا، کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کرے۔

پاکستان