پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتخابات میں اہلیت سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔
عام انتخابات سے دو روز قبل سپریم کورٹ میں شاہ محمد زمان نامی شہری نے درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاول بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں جس کا انتخابی نشان تلوار ہے جبکہ وہ انتخابات میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے ٹکٹ اور تیر کے نشان پر حصہ لے رہے ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی شخص بیک وقت دو جماعتوں کا رکن نہیں رہ سکتا، اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ نے قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بلاول بھٹو زرداری کو تیر کے نشان پر الیکشن لڑنے سے روکا جائے۔
2002 میں پرویز مشرف کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے نام سے الیکشن مٰں حصہ لیا تھا اور اس کا انتکابی نشان تیر تھا۔۔ اس وقت سے اب تک پاکستان اسی پارٹی کے نام سے منتخبب ایوان کا حصہ بنتی ہے۔۔











