نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ادھیڑ عمر میں موٹے ہونے پر فکر مند لوگوں کو یہ چاہیے کہ اپنا موازنہ والدین کے اسی عمر میں ڈیل ڈول سے کریں۔
یورپی کانگریس میں موٹاپے سے متعلق پیش کی گئی تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص کے والدین میں سے کوئی ایک ادھیڑ عمری میں موٹا ہو تو اس کا بھی اسی عمر میں موٹے ہونے کا خدشہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر دونوں ہی موٹے ہوں تو یہ خطرہ بھی 6 گنا ہوجاتا ہے۔
اس مطالعے کے لیے محققین نے ٹرمس اسٹڈی نامی جاری صحت کے تحقیقی منصوبے میں حصہ لینے والے 2 ہزار سے زائد والدین اور ان کے شادی شدہ بچوں کی صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔
محققین نے دیکھا کہ والدین کا باڈی ماس انڈیکس براہ راست ان کے بچوں کے باڈی ماس انڈیکس کو بھی متاثر کرتا ہے۔
آرکٹک یونیورسٹی آف ناروے میں کمیونٹی میڈیسن کی ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو، اور اس تحقیق کی سربراہ ماری میکلسن نے کہا کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں اور والدین کے وزن کے درمیان تعلق چھوٹی عمر میں ختم نہیں ہوجاتا۔
اپنے بیان میں ماری میکلسن نے کہا کہ بچپن اور جوانی میں کسی بھی انسان کے ڈیل ڈول ان کے والدین جیسا ہوتا ہے ۔جن بچوں کے والدین موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان بچوں میں 40 اور 50 دہائی میں بھی موٹاپے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ۔ اسی لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کررہے ہیں کہ یہ مشابہت درمیانی عمر میں بھی ہوگی۔











