اہم ترین

میر علی دہشتگردی کے بعد پاکستان کی جوابی کارروائی پر امریکا میدان میں آگیا

امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے افغانستان میں پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور اس سے پہلے میر علی میں دہشت گردوں کے حملے پر جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے طے کریں۔

تین روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے 2 افسران اور 5 جوان شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

جس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے اس حملے میں ملوث مزید دہشتگردوں کو ٹھکانے لگایا تھا۔

گزشتہ روز وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کے سرحدی علاقے میں آپریشن کا ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک دہشت گرد تھے۔ یہ گروہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر پاکستان میں کئی دہشت گردانہ کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔

جوابی کارروائی کے بعد افغان میں برسراقتدار حکومت کے حکام نے دھمکی آمیز بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جو پاکستان کے کنٹرول سے باہر ہوں گے۔

پاکستان اور افگانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا میدان میں آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین ژاں پئیر نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے پر اور افغانستان میں فضائی حملے کے دوران سویلین ہلاکتوں پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے نہ کیے جائیں۔متعلقہ حکام اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دے۔ ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ ضبط سے کام لے اور یہ یقینی بنائے کہ اس کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے بھی کہا ہے کہ ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے شروع نہ ہوں۔

پاکستان