قومی کرکٹ تیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے محمد عامر اور عماد وسیم کی ریٹائرمنٹ واپس لینے کے فیصلے کو ٹھیک قرار دے دیا۔
کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ عماد وسیم اور عامر سینئر تجربہ کار کھلاڑی ہیں، ان سے نوجوان کرکٹرز کو سیکھنے کو ملے گا۔ دونوں کواپنی فٹنس دیکھانی پڑے گی اور ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ بننا پڑے گا۔ میرے لئے ریٹائرمنٹ سے واپسی تھوڑی لیٹ ہو گئی ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں قومی کھلاڑیوں کا کیمپ اچھی چیز ہے۔ کاکول میں میرا اچھا تجربہ رہا ہے فٹنس پر کافی فرق پڑتا ہے۔ کھلاڑیوں کو اگر کاکول میں ایک مہینے کا کیمپ ملے تو وہ سپر مین بن کر نکلیں گے۔ جو کھلاڑی نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز مٰں سلیکٹ نہ ہوں انہیں وہاں مزید قیام کرنا چاہیے۔
غیر ملکی کوچنگ اسٹاف سے متعلق سابق کپتان نے کہا کہ ہماری ٹیم میں اینڈی فلاور جیسے گورے کوچز آنے چاہیئں، ہیڈ کوچ غیر ملکی ہو اور کوچنگ اسٹاف پاکستانی ہو تو اچھا ہوگا۔
نئی سلیکشن کمیٹی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو با اختیار بنایا ہے جو اچھی چیز ہے لیکن سلیکشن کمیٹی کا سربراہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ سربراہ نہ ہونے سے فیصلہ کرنے میں مشکل ہوگی۔ وہاب ریاض کو سلیکشن کمیٹی کا سربراہ ہونا چاہیے۔
شاہد آفریدی نے پی ٹی آئی کے حامیوں کی ٹرولنگ پر کہا کہ مجھے اس ملک نے بہت محبت دی ہے جس کا جواب بھی میں محبت سے دینا چاہتاہوں۔ آپس میں نفرت پھیلانا اچھی بات نہیں۔
لیجنڈ کرکٹر نے کہا کہ جب چہرے تبدیل ہوتے ہیں تو نظام بھی تبدیل ہوجاتا ہے، نیا آنے والا سمجھتا ہے جس نے پہلے کام کیا اس نے غلط کام کیا ہے۔ جس کو ذمہ داری دی ہے تو اس کو وقت بھی دیں، کپتان بنانے کا جو فیصلہ پہلے کیا گیا تھا یا تو وہ غلط تھا یا اب جو ہوگا وہ غلط ہوگا۔











