امریکی ریاست فلوریڈا میں 14 سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر مشروط پابندیاں لگادی گئی ہیں ۔ جس کے تحت اب بچوں کو فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر ایپس اور ویب سائیت کے استعمال کے لئے والدین کی اجازت درکار ہوگی۔
سوشل میڈیا ہر عمر کے لوگوں کی ضرورت خیال کیا جانے لگا ہے، یہاں سے انسان دنیا بھر میں ہونے والی سرگرمیوں سے ۤگاہ رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایسی چیزوں تک بھی ررسائی ہوجاتی ہے جو ان پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
بچے سوشل میڈیا پر ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو ان کی عمر سے زیادہ ہوتی ہیں جس سے ان کی ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں بچوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اس امکان کو ختم کرنے کے لیے امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔
فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے 14 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس رکھنے پر پابندی کے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس قانون کے تحت فلوریڈا میں 14 سال کے بچوں کو میٹا پلیٹ فارم اور ٹک ٹاک پر اپنا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت لینی ضروری ہوگی۔
فلوریڈا کا یہ قانون ریاست کے ان تمام بچوں پر لاگو ہوگا۔ جن کی عمر کی تصدیق کے لیے شناختی دستاویزات درکار ہیں۔ تاہم بڑی عمر کے بچوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔
نئے قانون کے تحت فلوریڈا میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو 1 جنوری 2025 سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے قانون (HB3) کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 14 سال سے کم عمر بچوں کے موجودہ اکاؤنٹس کو ہٹانا ہوگا۔ تاہم اکاؤنٹ ہولڈرز کے پاس اکاؤنٹ ختم کرنے کے لیے 90 دن ہوں گے۔14 اور 15 سال کی عمر کے بچے والدین کی رضامندی سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا سکتے ہیں۔
اگر کوئی پلیٹ فارم والدین یا سرپرست کی درخواست پر اکاؤنٹ کو حذف نہیں کرتا، تو اس پر ہر خلاف ورزی پر 10 ہزار ڈالرز تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
والدین یا سرپرست کسی بھی اکاؤنٹ کو حذف کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں، جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پانچ کاروباری دنوں کے اندر تسلیم کرنا ضروری ہے۔
اگر کوئی پلیٹ فارم قانون کی دفعات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو فلوریڈا کا محکمہ قانونی امور ہر خلاف ورزی پر 50 ہزار امریکی ڈالرز تک کا شہری جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔
امریکا دنیا کا پہلا ملک نہیں ہے جس نے سوشل میڈیا پر بچوں سے متعلق قدغنیں لگائی ہیں۔ امریکی ریاستوں سے پہلے، یورپی یونین نے 2015 میں ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت بچے کو سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے والدین کی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے۔











