سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نہ تو کسی نے ڈیل کی بات کی اور نہ ہی اس سلسلے میں انہیں کوئی پیغام موصول ہوا۔
اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ ہم سے بات کرنے کا وقت وہ تھا جب 8 فروری کو ملک بھر کے عوام ایک طرف کھڑے ہو گئے تھے۔ اُس وقت بھی مجھ سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا تو وہ اب مجھ سے کس بات پر ڈیل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ملک میں عام انتخابات کو ملتوی کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں بھی اُن کی پٹیشن اس لیے نہیں سُنی گئی کیونکہ وہ بھی پی ٹی آئی کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ملک میں لوگوں کا عدلیہ سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا تعلق سیاست سے نہیں لیکن اس کے باوجود انہین سزا سناکر ایک الگ کمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تینوں بہنوں پر بھی مقدمات ہیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں ادارے آئینی طور پر نہیں چل رہے ، موجودہ سیٹ اپ پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔











