بھارت میں گزشتہ 10 سال سے حکمران جماعت بی جے پی ایوان زیریں (لوک سبھا) میں اکثریت حاصل نہیں کرسکی لیکن اس کے انتخابی اتحاد کو معمولی سبقت حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے بی جے پی کو تیسری مرتبہ حکموت بنانے کے لئے اپنے اتحادی جماعتوں کی بے ساکھی استعمال کرنا پڑے گی۔
543 رکنی لوک سبھا کی 542 نشستوں پر سات مراحل میں انتخابات کرائے گئے تھے جب کہ ایک نشست پر بی جے پی کا امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوگیا تھا۔
بھارت میں حکومت سازی کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 272 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔ مودی کی قیادت والی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی صرف 240 سیٹیں ہی حاصل کرسکی، جو کہ 2019 اور 2014 میں بالترتیب 303 اور 282 سیٹوں سے بہت کم ہے۔ اسے حکومت سازی کے لیے اب اپنی حلیف جماعتوں کے تعاون پر انحصار کرنا پڑے گا۔
سن 2019 میں 52 سیٹوں کے مقابلے اس مرتبہ اس نے 99 سیٹیں جیت لیں۔ جب کہ اس کی قیادت والی انڈیا اتحاد کو مجموعی طور پر 231 سیٹیں ملی ہیں۔
بی جے پی پی ایم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت بنائے گی یا ہندوستانی اتحاد کوئی بڑا کردار ادا کرے گا۔ مجموعی طور پر نتائج تو آ چکے ہیں لیکن حکومت سازی کے حوالے سے تصویر ابھی باقی ہے۔ کیونکہ انہیں تیلگو دیشم پارٹی، جنتا دل یونائیٹڈ، شیو سینا اور لوک جن شکتی پارٹی کی حمایت درکار ہوگی جنہوں نے انتخابات میں بالترتیت 16، 12 ،7 اور 5 نشستیں حاصل کی ہیں۔
اس طرح بھارت میں آئندہ حکومت کون بنائے گا اس کا انحصار چار جماعتوں تیلگو دیشم پارٹی، جنتا دل یونائیٹڈ، شیو سینا اور لوک جن شکتی پارٹی پر ہوگا۔ کیونکہ شیو سینا کے علاوہ تینوں جماعتیں ماضی میں کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملا چکی ہیں۔











