پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل فیض کا معاملہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے واٹس ایپ پر باضابطہ چینل پر جاری بیان میں عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں کارکنوں کے ساتھ ساتھ برتا گیا سلوک نہ عوام بھولیں گے اور نا ہی ہم ۔ شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، آج نہیں تو کل سب ظاہر ہو جائے گا-
عمران خان نے اپنی پارٹی اور کارکنان کو ہدایت کی کہ پارلیمنٹ، عدلیہ، انٹرنیشنل میڈیا سمیت ہر سطح پر بھرپور آواز اٹھائیں- 15 دسمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ سوگ اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا-
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ لوگ پرامن احتجاج کرتے ہیں تو ان پر سیدھی گولیاں چلائی جاتی ہیں، ہمارے شہدا کا ڈیٹا تک چھپا لیا گیا،کئی لوگ لاپتہ کر دئیے گئے، مجھے ایک کیس کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر قبضہ کر لیا گیا ہے-
عمران خان نے کہا کہ اگر سینئر ترین ججز پر مشتمل آزاد جوڈیشل کمیشن اور انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات نہیں مانے جاتے تو سول نافرمانی کی تحریک بھرپور طریقے سے چلائی جائی گی جس میں پہلا قدم اووررسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں کمی کی مہم ہو گی-
ان کا کہنا تھا کہ ہم اداروں سے کہتے ہیں کہ جو لوگ عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں انہیں پہچانیں اور روکیں- ہم اپنا ملک ٹوٹنے نہیں دیں گے-
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے ماتحت تھے- جنرل فیض کا معاملہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جب وہ وزیرِ اعظم تھے تو فیض حمید جنرل باجوہ کی اجازت سے ملتے تھے اور پھر جنرل باجوہ کو بریف بھی کرتے تھے۔ نو مئی کے سلسلے میں جنرل فیض سے تعلق جوڑنا احمقانہ بات ہے۔ کیا انہیں پتہ تھا کہ نو مئی کو وہ گرفتار کئے جائیںگے ؟ تو سازش کس بات کی کرنی تھی؟ جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد ہماری کیا مدد کر سکتے تھے؟
انہوں نے کہا کہ اصل حساب تو جنرل باجوہ کا ہونا چاہئے جس نے ہماری منتخب حکومت کے خلاف شازش کی۔ اس بات کو مولانا فضل الرحمان ، شاہد خاقان عباسی، اور محمد زبیر سمیت بہت سے لوگ کنفرم کر چُکے ہیں۔ ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنے کے جُرم میں جنرل باجوہ کا ٹرائل ہونا چاہئے۔










