اہم ترین

پنجاب میں گزشتہ 40 سال کا بدترین سیلاب

پنجاب کو ان دنوں گزشتہ 40 سال کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔ تینوں مشرقی دریاؤں میں سیلاب سے ہزاروں دیہات، کھڑی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران پنجاب اور بھارت کی ملحقہ ریاستوں میں ہونے والی طوفانی بارشوں نے دریائے چناب، راوی اور ستلج میں شدید سیلابی صورت حال پیدا کردی ہے۔

پنجاب پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے اب تک سیلاب سے کم از کم 20 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں 1988 میں اتنا پانی آیا تھا، لیکن اب پانی اترنے لگا ہے۔

دریائے راوی میں شاہدرہ اور بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ سدھنائی ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔

دریائے چناب پر مرالہ کے مقام پر نچلے، خانکی کے مقام پر درمیانے اور قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔سیلاب کے پیش نظر رواز برِج کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے۔

دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانےاور اسلام ہیڈورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

لاہور میں وفاقی وزیر علیم خان کی ہاوسنگ سوسائٹی پارک ویو کے 4 بلاکس میں پانی داخل ہوگیا تاہم سوسائٹی سے لوگوں کو نکال لیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو سیلابی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کرنے اور الرٹ رہنے کا حکم دے دیاہے۔

پاکستان