اہم ترین

ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک یوٹاہ یونیورسٹی میں تقریر کے دوران قتل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور دائیں بازو کے کارکن چارلی کرک کو جمعرات کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ وہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی کے پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق چارلی کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مباحثے میں حصہ لے رہے تھے۔ وہ تقریر کر ہی رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نے ان پر گولی چلا دی۔ جو سیدھی ان کی گردن میں لگی۔ اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن وہاں ڈاکٹروں نے کرک کو مردہ قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلی کرک کے قتل پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کرکے امریکا میں قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ عظیم چارلی کرک اب اس دنیا میں نہیں رہے، امریکی نوجوان کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔ ہر کوئی ان سے پیار اور ان کا احترام کرتا ہے، میلانیا اور میں ان کی اہلیہ ایریکا اور پورے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں لکھا، ”چارلی کرک ایک حقیقی عظیم امریکی محب وطن تھے۔ ان کے اعزاز میں، میں حکم دیتا ہوں کہ اتوار کی شام چھہ بجے تک امریکہ میں تمام امریکی پرچم سر نگوں رہیں گے۔”

کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مباحثے میں حصہ لے رہے تھے۔ اس دوران وہ خیمے کے نیچے مائیک تھامے بول رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نے ان پر گولی چلا دی۔ گولی کرک کی گردن میں لگی۔ گولی لگتے ہی کرک زمین پر گر گیا اور خون بہنے لگا۔ اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن وہاں ڈاکٹروں نے کرک کو مردہ قرار دے دیا۔

پاکستان