ڈیاگو فیلیکس ڈو سانتوس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنے آنجہانی باپ کی آواز دوبارہ سن پائیں گے لیکن آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے یہ ممکن کر دکھایا۔ ان کا کہنا ہے “آواز کا ٹون تقریباً بالکل ویسا ہی ہے جیسے وہ واقعی میرے سامنے ہوں۔”
دی اکنامکس ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی میں ڈیاگو فیلیکس ڈو سانتوس نے اسی وائس نوٹ کا استعمال کرکے ایلیون لیبز نامی اے آئی پلیٹ فارم کی مدد لی۔
ایلیون لیبز 2022 وائس جنریٹر ٹول ہے۔ اس نے 22 ڈالر ماہانہ فیس دے کر انہوں نے والد کی آواز سے نئے پیغامات بنوائے۔ اب ایپ سے انہیں ایسا لگتا ہے جیسے ڈیاگو اپنے والد کے ساتھ ہی ہو ۔ یہاں تک کہ والد کا دیا ہوا نک نیم “باسی” بھی انہی الفاظ میں سنائی دیتا ہے۔
شروع میں مذہبی عقائد کی وجہ سے ان کے خاندان نے اس ٹیکنالوجی پر اعتراض کیا. لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے بھی اسے قبول کر لیا. اب ڈیاگو سانتوس اور ان کی بیوی سوچ رہے ہیں کہ وہ بھی اپنے ڈیجیٹل وائس کلون تیار کروالیں تاکہ ان کی موجودگی آنے والے وقت میں خاندان کے ساتھ بنی رہے.
‘گریف ٹیک’ کا بڑھتا بازار
ڈاکٹر سانتوس کا تجربہ اس ٹرینڈ کا حصہ ہے جسے اب “گریف ٹیک” کہا جاتا ہے. یعنی ایسی AI ٹیکنالوجیاں جو پیاروں کے جانے کے بعد لوگوں کو ذہنی سہارا دینے کے لیے بنائی جا رہی ہیں. امریکہ کی اسٹوری فائل اور ہیئر آفٹر اے آئیI جیسی اسٹارٹ اپس پہلے سے ایسے ٹول پیش کر رہی ہیں جن سے کسی کی ڈیجیٹل شناخت یا وائس پر مبنی انٹرایکٹو اوتار تیار کیا جا سکے.
اسی سلسلے میں ایٹرنوس نام کی کمپنی بھی 2024 میں شروع ہوئی۔ اس کے فاؤنڈر رابرٹ لوکیسیو نے والد کے انتقال کے بعد اے آئی بیسڈ ڈیجیٹل آواز بنانے کی پہل کی۔ اب تک 400 سے زیادہ لوگ اس پلیٹ فارم پر اپنے انٹرایکٹو اوتار بنا چکے ہیں۔ یہاں 25 ڈالر سے شروع ہونے والی سبسکرپشن منصوبہ دستیاب ہے جو کسی شخص کی کہانیوں اور یادوں کو ان کے جانے کے بعد بھی خاندان تک پہنچاتی رہتی ہے۔
حالانکہ اس ٹیکنالوجی نے غم کو سنبھالنے کا ایک نیا راستہ کھول دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی سنگین سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ رضامندی، ڈیٹا کی حفاظت اور کاروباری فائدے جیسے مسائل اب بڑی بحث کا حصہ ہیں۔ ماہرین مانتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسان کو تسلی تو دیتی ہے لیکن کہیں یہ حقیقی غم کی عمل کو ٹالنے یا بدلنے کا سبب نہ بن جائے











