عمران خان اور ان کے وکلا نے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کی جانب سے جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست خارج کرنے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 9 مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے روبرو پیش کیا جانا تھا۔ تاہم ان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔
عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ وہ منصفانہ ٹرائل چاہتے ہیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملزم عدالت میں ذاتی طور پر موجود ہو، صوبائی حکومت کے نوٹی فکیشن کی کاپی انہیں ایک روز قبل ملی ہے اور وہ اس کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اپنایا کہ پنجاب حکومت کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مقدمے کی کارروائی اڈیالہ جیل سے اے ٹی سی منتقل کی گئی ہے، جس کا جائزہ لینے کا اختیار صرف آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
عدالت نے عمران خان کی ذاتی حیثیت میں پیشی سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب حکومت کے نوٹی فکیشن کے مطابق عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔ بعد ازاں جیل حکام نے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔
دوران سماعت عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں نے اپنے موکل سے بات کرنے کی اجازت دے دی۔
عمارن کان سے گفتگو کے بعد فیصل ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان کا حکم ہے ہم اس کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے، عمران خان نے بھی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا اور وکلا کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔
بعدازاں، عدالت نے استغاثہ کے 2 گواہان سب انسپکٹر سلیم قریشی اور سب انسپکٹر منظور شہزاد کے بیانات قلمبند کیے، انہوں نے عدالت کو 13 یو ایس بی فراہم کیں جن میں 9 مئی سے متعلقہ عمران خان کی 40 ویڈیوز، دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی ویڈیو کلپس اور اخباری تراشے شامل تھے۔
عدالت نے 23 ستمبر کو اگلی سماعت پر مزید 10 گواہان کو طلب کر لیا جن میں پیمرا، ایف آئی اے، پی ٹی آئی، پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ، انٹرنل سیکیورٹی اور وزارت داخلہ کے نمائندے شامل ہیں۔











