نائب وززیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ ہمارا نہیں، یہ من و عن ہمارے نکات نہیں، ہمارے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ اٹھایا، وہاں اسرائیل کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ غزہ میں خونریزی رکوانے میں ناکام ہوچکا ہے، یورپی یونین ناکام ہوچکی ہے، عرب ممالک ناکام ہوچکے ہیں، غزہ انسانوں کے قبرستان کے ساتھ ساتھ عالمی ضمیر کا قبرستان بھی بن چکا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ہماری کوشش تھی کہ کچھ ممالک کے ساتھ مل کر امریکا سے بات کیا جائے اور معصوم جانوں کی روز ہونے والی خونریزی، بھوک سے اموات اور بے دخلی اور مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کے منصوبے کو روکا جائے۔ عرب ممالک، پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا کے صدور اور وزرائے اعظم نے اپنے وزرائے خارجہ کے ہمراہ امریکی صدر سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات سے ایک روز قبل 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کی صدر ٹرمپ کے ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈاکوارٹر میں غیر رسمی ملاقات ہوئی اور کہا کہ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ شرمناک ہے، اگر ہم اسے روک نہیں سکتے تو پھر جنرل اسمبلی کا کیا فائدہ؟
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اگلے دن دوبارہ ملاقات طے ہوئی، قطری سفارتخانے میں ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی ٹیم بھی آئی، جس سے کافی طویل ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہمیں 20 نکاتی پرپوزل دیا، جس پر ہم نے انہیں کہا کہ ہم مشاورت کے بعد اگلے روز جواب دیں گے۔ہم نے اسی ڈرافٹ میں رہتے ہوئے اپنی چیزیں شامل کیں۔
نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ سے کہا کہ مشترکہ بیان میں موجود اسرائیل کا نام بھی کاٹ دیں۔ ہم اس کا نام بھی سننا نہیں چاہتے، ہماری سفری دستاویز کہتی ہے کہ یہ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے سفر کے لیے کارآمد ہے، اسرائیل کا لفظ ہمارا نو گو ایریا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطین سے متعلق پاکستان کی ریاستی پالیسی تو دو ریاستی حل ہی ہے، کسی ایک کی پالیسی نہ ہو تو الگ بات ہے۔مغربی کنارہ غزہ کے ساتھ فلسطینی ریاست کا حصہ ہوگا اور اسے اسرائیل کے ساتھ شامل نہیں کیا جائے گا، بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے قیام کی یہی کلید ہے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ ہمارا نہیں ہے، یہ من و عن ہمارے نکات نہیں ہیں، ہمارے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔











