اہم ترین

کینسر کے مریضوں کے لیے تمباکو نوشی چھوڑنا زندگی دگنی کر سکتا ہے: امریکی تحقیق

ماہرین صحت نے کینسر کے مریضوں کے لیے ایک بہت حوصلہ افزا پیغام دیا ہےکہ سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی، یہاں تک کہ اگر مریض کو آخری اسٹیج کاکینسر بھی لاحق ہو، تو یہ فیصلہ اس کی زندگی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

جرنل آف دی نیشنل کمپریہینسو کینسر نیٹ ورک میں شائع ہونے والی ایک نئے امریکی مطالعے کے مطابق جن کینسر کے مریضوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی، انہوں نے سگریٹ پینے والے مریضوں کے مقابلے میں تقریباً ایک سال زیادہ زندگی گزاری۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو مریض تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں، ان کے دو سال کے اندر فوت ہونے کے امکانات ترک کرنے والوں کے مقابلے میں تقریباً دُگنے ہوتے ہیں۔

واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والی سینئر محقق ڈاکٹر لی شیون چن نےکہا کہ کبھی بھی دیر نہیں ہوتی، اور کوئی بھی اتنا بیمار نہیں ہوتا کہ سگریٹ نہ چھوڑ سکے۔ جو کینسر کے مریض تمباکو نوشی ترک کر دیتے ہیں، وہ ان مریضوں سے کہیں زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں جو سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں، چاہے ان کا مرض آخری درجے پر ہی کیوں نہ ہو۔

تمباکونوشی چھوڑنا کیموتھراپی سے بھی زیادہ مؤثر

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اسٹیون توہماسی نے تمباکو نوشی چھڑوانے کی مہم کو کینسر کے علاج کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔

ان کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنا بعض اوقات کیموتھراپی سے بھی زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔ ہمیں تمباکو نوشی ترک کرانے کو سرجری، ریڈی ایشن اور کیموتھراپی کے ساتھ کینسر کے علاج کا چوتھا ستون بنانا ہوگا۔

یہ مطالعہ 2018 میں علاج شروع کرنے والے 13 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں پر کیا گیا۔ ان میں سے 13 فیصد افراد سگریٹ پیتے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف 20 فیصد نے علاج کے پہلے چھ ماہ کے اندر سگریٹ نوشی چھوڑی۔

ڈیوک کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر جیمز ڈیوس نے اگرچہ اس تحقیق کو بڑی پیشرفت قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ چونکہ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ ہے، اس لیے اس سے مکمل طور پر وجہ اور اثر کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، زندہ رہنے کے دُگنے امکانات کا اشارہ مریضوں اور ڈاکٹروں کے لیے ایک طاقتور محرک ہے۔

پاکستان